سٹی42: پی ٹی آئی, مجلسِ وحدت اور محمود اچکزئی کےاتحاد نے اس جمعے نہیں بلکہ اگلے جمعے یومِ سیاہ منا کر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پی ٹی آئی یہ احتجاجی یومِ سیاہ محمود اچکزئی کی صدارت میں بنائی ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے فورم سے کرے گی۔ محمود اچکزئی کے فالوور صرف کوئٹہ میں ہیں اس لئے باقی سب جگہوں پر اس احتجاجی یوم سیاہ کے لئے مہم پی ٹی آئی چلائے گی۔
محمود اچکزئی کی زیر صدارت تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس ہوا جس میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، اختر مینگل، اسد قیصر، زین علی شاہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر، علی اصغر خان نے شرکت کی۔
اجلاس میں27 ویں آئینی ترمیم پر احتجاج کرنے کے لئے حکمتِ عملی پر مشاورت کی گئی۔
محمود اچکزئی کی صدارت مین ہونے والے اس اجلاس کے شرکا نے بعد مین ایک بیان جاری کیا جس مین انہوں نے کہا ہم ستائیسویں آئینی ترمیم اور چھبسیویں ترمیم کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ ہے کہ آئین کو اصل شکل میں بحال کیا جائے۔
اس اجلاس کے شرکا نے یہ بھی کہا کہ ہم منصورعلی شاہ اوراطہرمن اللہ کے استعفے کو مزاحمت کے طورپرتعبیر کرتے ہیں، کے پی کے امن جرگہ کی تحریک تحفظ آئین پاکستان حمایت کرتی ہے۔
اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا کہ پیرکے روزممبران قومی اسمبلی وسینیٹ، قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ تک چند سو گز کی "واک" کریں گے، خیبرپختونخوا اسمبلی میں ستائیسویں آئینی ترمیم کےخلاف قرارداد پیش کی جائےگی اور ممبران پنجاب اسمبلی پیرکے روز پنجاب اسمبلی سے لاہور ہائیکورٹ تک چند سو گز کا پیدل مارچ کریں گے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے بیان میں کہا گیا کہ آئندہ جمعہ کو ملک بھر میں یوم سیاہ منائیں گے۔
اپوزیشن اتحاد کے مطابق بانی پی ٹی آئی، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اورقیادت وکارکنان کی فی الفوررہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، تحریک تحفظ آئین پاکستان تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔