سٹی 42:وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کی جرمن سفیر انّا لیپل سے ملاقات ہوئی ۔ ملاقات میں پاور ڈویژن میں توانائی اصلاحات اور پاک-جرمن تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔
اویس لغاری نے کہا پاکستان میں 55 فیصد توانائی صاف ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے، حکومت کا ہدف توانائی میں صاف ذرائع کا حصہ 90 فیصد تک بڑھانا ہے،پاکستان مقامی و قدرتی توانائی ذرائع سے خاطر خواہ بجلی پیدا کر رہا ہے،تقریباً 800 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے ۔
اویس لغاری نے کہا حکومت مزید بجلی نہیں خریدے گی،گزشتہ سال پاکستان توانائی میں 70 فیصد تک خود کفالت کے قریب رہا، ڈسکوز کی نجکاری کے عمل میں حکومت وسطی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، پہلے 11 میں سے 3 ڈسکوز کی نجکاری کر رہے ہیں ، آئندہ سال مزید ڈسکو شامل کی جائیں گی۔
بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم جدید توانائی نظام کے لیے ناگزیر ہے، لیسکو کے لیے GIZ تعاون سے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم منصوبہ زیر غور ہے،ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کے لیے سرمایہ کاری درکار ہے ،پاکستان بزنس کونسل سمیت نجی شعبے کو سرمایہ کاری میں شامل کیا جا رہا ہے۔
جرمن مالیاتی اداروں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر زور دیا گیا ۔ پاکستان-جرمنی انرجی کوآپریشن فریم ورک کی تشکیل کی جائے۔
جرمن سفیر نے کہا پاکستان-جرمنی کلائمیٹ فریم ورک پہلے سے موجود ہے، توانائی میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا ۔ جرمن سفیر نے 300 ملین یورو توانائی منصوبے اور جاری تعاون کا ذکر کای ۔ سال 2027 کے نئے منصوبوں کی تیاری جاری ہے ۔
تکنیکی سطح پر روابط بڑھانے اور جلد دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا گیا۔