(ویب ڈیسک)ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برکس ممالک کی حمایت کیلئے انکا شکریہ ادا کرتےہوئے گروپ پر زور دیا کہ وہ امریکہ سے وابستہ ”برتری اور استثنیٰ“ کی تہذیب کے خلاف کوششیں تیز کرے، برکس کے بہت سے ممالک پہلے ہی امریکی جبر اور دباؤ سے واقف ہیں۔ ایران ”غیر قانونی توسیع پسندی اور جنگ پسندی کا شکار“ رہا ہے۔ تہران جنگ کیلئے تیار ہے لیکن سفارتی روابط کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نئی دہلی میں منعقدہ برکس (BRICS) سمٹ میں شریک ممبران ممالک کے وزرائے خارجہ پر ”بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی غیر مبہم مذمت“ کرنے کیلئے زور دیا اور کہا کہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ”وحشیانہ اور غیر قانونی جارحیت“ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران ”غیر قانونی توسیع پسندی اور جنگ پسندی کا شکار“ رہا ہے۔ انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ مغرب کی ”برتری کے جھوٹے احساس“ کو چیلنج کریں۔ بظاہر واشنگٹن کو نشانہ بنانے والے ان تبصروں میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا تہران جنگ کیلئے تیار ہے لیکن سفارتی روابط کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران ناقابلِ تسخیر ہے اور دباؤ کے دوران مزید مضبوط اور متحد ہو کر ابھرتا ہے۔اسلامی جمہوریہ لڑنے کیلئے تیار ہے لیکن سفارتکاری کی پیروی اور دفاع کیلئے بھی تیار ہے۔ انہوں نے مغربی طاقتوں کے ساتھ ایران کے تصادم کو ”مغربی تسلط“ کے خلاف وسیع تر جدوجہد کا حصہ قرار دیتے ہوئے دلیل دی کہ تہران کے اقدامات، برکس ممالک اور ’گلوبل ساؤتھ‘ کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔عراقچی نے کہا کہ ”گزشتہ ایک سال کے دوران، مجھے برکس کی سربراہی میں منعقد ہونے والے دو اجلاسوں میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا ہے جہاں میں نے ایرانی حکومت کے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ میکانزم ( برکس) ایک نئے عالمی نظام کے ابھرنے کی علامت ہے، جس میں گلوبل ساؤتھ، دنیا کے مستقبل کے اہم معمار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جسے کبھی ”پرجوش آئیڈیل“ سمجھا جاتا تھا وہ اب حقیقت بن چکا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اب بھی نازک ہے کیونکہ ”زوال پذیر سامراجی طاقتیں“ اپنی ”مایوسی اور جارحیت“ کے ذریعے عالمی سیاسی تبدیلیوں کو الٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔