سٹی 42: بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کردی گئی ۔
علیمہ خان نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کو غیر قانونی قرار دیا جائے ، عدالتی حکم کے بغیر تنہائی میں قید رکھنا غیر قانونی قرار دیا جائے ،کسی بھی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی ، تعزیرات پاکستان جیل رولز کے تحت ایسی قید غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز ہے ، جیل رولز کے مطابق کسی بھی قیدی کو ایک وقت میں 14 دن سے زیادہ تنہائی میں نہیں رکھا جا سکتا ،بانی پی ٹی آئی کی تنہائی میں قید کو آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کی خلاف ورزی قرار دیا جائے ، اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کے تحت بھی غیر معینہ مدت تک تنہائی میں قید رکھنا انسانی وقار کے منافی ہے،
درخواست میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد ختم ہوچکی ہے ،بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ میں شدید تکلیف کے باعث انہیں چار مرتبہ پمز اسپتال منتقل کیا گیا ،جیل حکام کی جانب سے اہلخانہ یا وکلاء کو بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بیماری اور علاج کی نوعیت سے آگاہ نہیں کیا گیا ، عدالتی حکم پر ہونے والی ملاقات میں انکشاف ہوا کہ بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد ضائع ہو چکی ہے ،بار بار انجکشن لگنے کے باوجود بینائی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
درخواست میں موقف اپنایا کہ بانی پی ٹی آئی کو مناسب تشخیص کے لیے اسپتال منتقل نہیں کیا گیا ،سابق سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالغفور انجم نے بروقت علاج فراہم کرنے میں غفلت برتی ، بانی پی ٹی آئی نے وکلاء کو بتایا کہ انہیں روزانہ تقریباً 22 گھنٹے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے ،بشریٰ بی بی کو بھی اڈیالہ جیل میں روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے ،بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ٹیلی ویژن، کتابیں یا کسی بھی قسم کا مطالعہ کا مواد فراہم نہیں کیا جا رہا ، وکلاء کو قانونی مشاورت اور پاور آف اٹارنی پر دستخط کروانے کے لیے ملاقات سے روکا جا رہا ہے ،تحریک انصاف کے چیئرمین، سیکرٹری جنرل اور دیگر عہدیداروں کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے
درخواست میں سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے ۔ڈی جی ایف آئی اے، ایم ایس پمز اسپتال اور ریاست کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے