سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امیر قطر تمیم بن حمد الثانی کی دوحا میں امیری دیوان میں ملاقات ہو رہی ہے۔ اس اہم ملاقات سے امریکہ کے لئے قطر کی انویسٹمنٹ کے بہت سے نئے دروازے کھل جائیں گے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کو پھر سے امیر بنانے کے خواب میں رنگ بھرنے کی عملی ابتدا ہو جائے گی۔
دونوں رہنماؤں نے امیری دیوان میں ایک ساتھ بیٹھ کر اپنی ملاقات کے ابتدائی کلمات ادا کیے ہیں۔
قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی nے کہا کہ وہ اس دورے کے لیے "بہت پرجوش" ہیں جو سرمایہ کاری سے لے کر توانائی تک، فوجی تعاون تک تمام محاذوں پر امریکہ اور قطر کے تعلقات کو فروغ دے سکتا ہے۔
انہوں نے "خطے میں امن لانے" کے موقع پر بھی روشنی ڈالی۔
"صدر ٹرمپ، میں آپ کو کئی سالوں سے جانتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ آپ امن پسند آدمی ہیں،" امیر قطر نے کہا۔ "میں جانتا ہوں کہ آپ اس خطے میں امن لانا چاہتے ہیں … ہمیں امید ہے کہ اس بار ہم دانشمندانہ کام کریں گے اور امن قائم کریں گے۔"
خطہ میں امن لانے کے متعلق گفتگو میں شیخ تمیم بن حمد الثانی کا اشارہ براہ راست غزہ کی طرف تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر یہ اظہار کر چکے ہیں کہ غزہ میں حماس کو نہین ہونا چاہئے اور قطر کے متعلق قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کے غزہ میں کردار کو برقرار رکھنے کا حامی ہے۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی بدھ، 14 مئی 2025 کو دوحہ، قطر میں امیری دیوان میں ایک سرکاری استقبالیہ تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے 14 مئی کو دوحہ، قطر میں امیری دیوان میں ایک سرکاری استقبالیہ تقریب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیرمقدم کیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی بدھ، 14 مئی 2025 کو دوحہ، قطر میں امیری دیوان میں ایک سرکاری استقبالیہ تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی امیری دیوان میں شاندار تقریب میں آمد
امریکی صدر کی گاڑیوں کا قافلہ اب سے کچھ دیر پہلے امیری دیوان میں داخل ہو ا، ایک بڑے بینڈ اور اونٹ پر سوار رسمی سواروں نےقطر ی عربوں کے روایتی انداز سے ان کا استقبال کیا۔
ٹرمپ سعودی عرب کے دورے کے بعد سیدھے قطر آئے ہیں۔ قطر اور سعودی عرب کو کسی ھد تک مشرق وسطیٰ میں ایک دوسرے کا حریف تصور کیا جاتا رہا ہے تاہم امریکہ کے ساتھ کاروباری روابط میں دونوں یکساں طور پر متحرک رہتے ہیں۔
شام کے صدر کے متعلق ٹرمپ کے ریمارکس
دوحہ پہنچنے سےپہلے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے شام کے صدر احمد الشارع کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں بات کی، جسے انہوں نے "نوجوان"، پرکشش اور "سخت آدمی" کے طور پر بیان کیا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ شامی رہنما، جس کے پہلے القاعدہ کے ساتھ تعلقات تھے، ایک "جنگجو" کے طور پر "مضبوط ماضی" رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا ، "اسے ایک ساتھ کھینچنے میں ایک حقیقی شاٹ ملا ہے ،" انہوں نے غالباً اپنی رائے کو وزن دینے کے لئے کہا، مزید کہا کہ ترکی کے صدر اردگان بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ شام بالآخر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے گا۔ "لیکن ان کے پاس بہت کام ہیں،" انہوں نے کہا۔