حکومت نے ڈی جی ریسکیو کو ریگولر کرنے کی مخالفت کردی

 حکومت نے ڈی جی ریسکیو کو ریگولر کرنے کی مخالفت کردی

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ میں ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر کو ریگولر نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت، پنجاب حکومت کی مستقلی کی مخالفت، زیرالتواءعرضداشت مسترد کرنے کا سرکاری ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کے لیے مہلت کی استدعا، عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب سمیت دیگر فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دے دی۔

  

تفصیلات کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک نےڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر کی درخواست پرسماعت کی، حکومت کی جانب سےایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک اخترجاوید نےعدالت کو  آگاہ  کیا کہ ڈاکٹر رضوان نصیر کنٹریکت پر بھرتی ہوئے تھے اور  ان کےعہدے  کی مدت کا تعین کیا گیا ہےاس لئے ریگولر ہونے کی پالیسی پر پورا نہیں اترتے۔

ڈاکٹر رضوان نصیر کو ریگولر کرنے کی عرضداشت پہلےہی مسترد  کی جاچکی ہیں اور  لاء افسر نےاستدعا  کی کہ عدالت ریکارڈ پیش کرنےکےلیےمہلت دے، عدالت نےپنجاب حکومت کے لاء افسر کو ریکارڈ  پیش اور تحریری جواب جمع کرانےکےلیےمہلت دیتے ہوئےسماعت ملتوی کردی، ڈی جی ریسکیو ڈاکٹررضوان نصیرنے درخواست میں پنجاب حکومت، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم سمیت دیگر کو  فریق بناتے ہوئےموقف اختیار کر رکھا ہےکہ وہ پنجاب ایمرجینسی سروس ایکٹ دوہزارچھ کےتحت  27چولائی2006 کو گریڈ  20 میں تعینات ہوئے۔

طویل عرصے سے عارضی بنیادوں پرکام کر رہے ہیں، پنجاب ایمرجینسی کونسل کے2010میں ہونے والےاجلاس میں درخواست گزار  کی کارکردگی کو سراہا گیا، کارکردگی سراہنے کے باوجود  درخواست گزار کو نظر انداز کر کے 195 دیگر افسران کو ریگولر کر دیا گیا، درخواست گزار کو حکومتی پالیسی کےتحت ریگولر نہ کرنا امتیازی سلوک اورغیر  آئینی اقدام ہے،  چیف سیکرٹری پنجاب  میجر (ر) اعظم سلیمان خان کے پاس ریگولرکرنے کی درخواست زیرالتواء ہے۔ درخواست گزارنےاستدعا کی کہ عدالت ریگولزائشن ایکٹ دوہزار  اٹھارہ کےتحت اسےچھ جولائی دوہزار  دس سے ریگولر کرنے کا حکم دے ۔

یاد رہے کہ 18 اکتوبر 2016 میں پنجاب حکومت نے ڈاکٹر رضوان نصیر کو ڈائریکٹر جنرل  ریسکیو  1122  پنجاب کے عہدے پر تعینات کیا تھا، اس سے قبل بھی ڈاکٹر رضوان نصیر ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر کئی سال تک کام کر چکے ہیں ۔