سٹی 42: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال، طالبان کی پانچ سالہ حکمرانی، دہشتگردی، انسانی حقوق، سیاسی عدم شمولیت اور علاقائی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
16 ستمبر 2026 کو ہونے والے اجلاس میں مختلف ممالک اور اقوام متحدہ کے معاونت مشن برائے افغانستان (UNAMA) کے نمائندوں نے افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں، انسانی حقوق کی صورتحال اور خواتین و لڑکیوں پر عائد پابندیوں پر بات کی۔
سلامتی کونسل میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے طالبان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو افغان سرزمین پر دہشتگردی کی سرپرستی اور طالبان کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کی مذمت کرنی چاہیے۔
مائیک والٹز کے مطابق طالبان مختلف ممالک کے شہریوں، جن میں امریکی شہری بھی شامل ہیں، کو یرغمال بنا کر سیاسی دباؤ اور رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے طالبان کے زیرِ تسلط افغانستان کو ’State Sponsor of Wrongful Detention‘ کے طور پر نامزد کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے پانچ سالہ دور میں افغان عوام پر جبر، خوف اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رہیں، جبکہ طالبان کی پابندیوں کے باعث 22 لاکھ افغان لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں اور خواتین و لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی برقرار ہے۔
پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے افغانستان میں بڑھتی دہشتگردی کو بحران کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان ایک بار پھر متعدد دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔
عاصم افتخار کے مطابق ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ای ٹی آئی ایم سمیت دہشتگرد گروہوں اور طالبان کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ نے افغان بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود ڈرونز، جدید ہتھیار اور اربوں ڈالر مالیت کا چھوڑا گیا اسلحہ خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کی غیر قانونی معیشت دہشتگردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو سہولت فراہم کررہی ہے۔
ڈنمارک کے نائب مستقل نمائندے ایرک لارسن نے ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان کی افغان سرزمین پر موجودگی کو افغانستان، پڑوسی ممالک اور عالمی امن و سلامتی کے لیے باعث تشویش قرار دیا اور طالبان سے تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا۔
برطانیہ کی نائب مستقل مندوب کیٹ فوسٹر نے بھی افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف بامعنی کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کو خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پامال کرنے کے بجائے تمام افغانوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام کرنا ہوگا۔
فرانس کے نمائندے جیروم بونافون نے کہا کہ پانچ سال میں طالبان نے افغانستان کو تفریق زدہ ملک بنا کر ترقی کی راہ روک دی ہے۔ ان کے مطابق داعش خراسان، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کی موجودگی افغانستان اور خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
روسی نمائندے واسیلی نیبینزیا نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ داعش خراسان اور ای ٹی آئی ایم کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے شام اور عراق میں جنگی تجربہ رکھنے والے غیر ملکی دہشتگرد جنگجوؤں کی افغانستان میں موجودگی کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا۔
چین کے نائب مستقل نمائندے سن لی نے دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر زور دیتے ہوئے افغانستان میں داعش خراسان، القاعدہ، ای ٹی آئی ایم اور ٹی ٹی پی کی موجودگی کو دہشتگردی کا بڑا مسئلہ قرار دیا۔
UNAMA کی نائب خصوصی نمائندہ جیورجیٹ گگنن نے افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کو افغانستان، خطے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی بنیادی مسئلہ ہے۔
سابق افغان جمہوریہ کے نمائندے نصیر احمد فائق نے طالبان پر دہشتگرد گروہوں کو افغان سرزمین پر سرگرمی کی اجازت دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد گروہ موجود ہیں۔
نصیر احمد فائق کے مطابق طالبان کے پانچ سالہ اقتدار میں جامع سیاسی نظام اور جوابدہ ادارے قائم نہیں ہوسکے، جبکہ افغانستان پر طالبان کا علاقائی کنٹرول سیاسی جواز یا عوامی قبولیت کا متبادل نہیں ہے۔