ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں نیا اسلحہ قانون نافذ، سخت سزائیں مقرر

 پنجاب میں نیا اسلحہ قانون نافذ، سخت سزائیں مقرر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

رائو دلشاد: پنجاب حکومت نے لائسنس ہولڈرز کے اسلحہ اور لائسنس کی باقاعدہ جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے اور صوبے میں ڈی ویپنائزیشن اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پنجاب سرنڈر آف الیسیٹ آرمز ایکٹ 2026 کا ڈرافٹ اسمبلی کو ارسال کر دیا ہے۔ قانون کی منظوری اور گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد یہ نافذ العمل ہوگا۔

قانون کے تحت غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو 15 دن کی مہلت دی جائے گی کہ وہ اپنا اسلحہ جمع کرائیں۔ مقررہ مدت میں جمع کرانے والوں کے خلاف سابقہ قبضے پر قانونی کارروائی نہیں ہوگی، جبکہ پولیس یا متعلقہ افسر اسلحہ وصول کر کے باقاعدہ رسید اور ڈیجیٹل ریکارڈ جاری کرے گا۔ حکومت کو اختیار حاصل ہوگا کہ کسی بھی اضافی ہتھیار یا مواد کو غیر قانونی قرار دے سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے قانون میں ٹوب، خودکار ہتھیار، مشین گنیں، گرنیڈ، دھماکہ خیز مواد شامل ہیں۔ مقررہ مدت کے بعد غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر سخت سزائیں دی جائیں گی، جن میں خطرناک دھماکہ خیز مواد یا توپ رکھنے پر عمر قید اور جائیداد ضبطگی تک شامل ہے، جبکہ خودکار ہتھیار رکھنے پر کم از کم 10 سال سے عمر قید تک اور رائفل یا پستول رکھنے پر 3 سے 14 سال قید کی سزا دی جائے گی۔

رضاکارانہ طور پر لائسنس یافتہ اسلحہ بھی پولیس کے پاس جمع کرایا جا سکتا ہے اور وصول ہونے پر باقاعدہ رسید اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ فوت شدہ لائسنس ہولڈر کے وارث 7 دن کے اندر درخواست دے سکتے ہیں۔ جانچ کے بعد لائسنس منسوخ ہونے پر اسلحہ قریبی تھانے میں جمع کرانا لازمی ہوگا اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کا بھی حق دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہر ضلع میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو اسلحہ مقدمات کا فیصلہ 45 دن میں کرنے کی پابند ہوں گی۔

 غیر قانونی اسلحہ سے متعلق جرائم قابل دست اندازی اور ناقابل ضمانت ہوں گے، جبکہ قانون کے نفاذ اور آگاہی کے لیے میڈیا کے ذریعے عوامی مہم چلائی جائے گی۔ 1991 کے پرانے سرنڈر آف الیسیٹ آرمز ایکٹ کو ختم کر کے نیا قانون نافذ کیا جا رہا ہے۔