ویب ڈیسک :قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکے کے واقعے کے بعد حکومت نے عوامی تحفظ کے لیے چند علاقوں کو عارضی طور پر خالی کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام شہریوں کی حفاظت اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
قطری وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ مخصوص علاقوں کو عارضی طور پر خالی کرایا جا رہا ہے تاکہ فضائی دفاعی نظام ایران کے میزائل حملوں کو ناکام بنانے میں مؤثر طریقے سے سرگرم رہ سکے۔ وزارت نے بتایا کہ ریاست کو نشانہ بنانے والے ایک میزائل کو بروقت روک لیا گیا ہے، جس سے بڑے نقصان کے امکانات ٹل گئے۔
وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ خطرہ مکمل طور پر ختم ہونے تک یہ مخصوص علاقے خالی رکھے جائیں گے اور عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی غیر مستند ذرائع پر بھروسہ نہ کریں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، سکیورٹی فورسز اور فضائی دفاعی اہلکار اعلیٰ سطح کی نگرانی کر رہے ہیں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارت داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ان علاقوں میں داخل نہ ہوں اور تازہ ترین معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
ماہرین کے مطابق، قطر کا یہ اقدام خطرے کی شدت اور ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم کرنے کے لیے بروقت اور مؤثر قدم ہے۔ شہریوں کی حفاظت کے لیے عارضی ایوی اخلاء اور فضائی دفاع کی موجودگی سے صورتحال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔