ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور:سرکاری سکولوں میں نان سیلری بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم کا انکشاف

سکول سربراہان کا کہنا ہے کہ ہر دوسرے ماہ بجلی کے بل قرض لے کر ادا کیے جاتے ہیں اور فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے سکولوں میں بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں

لاہور:سرکاری سکولوں میں نان سیلری بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

جنید ریاض: لاہور کے مختلف سرکاری سکولوں میں نان سیلری بجٹ کی تقسیم کے حوالے سے شدید عدم توازن سامنے آیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گجر کالونی جوڑے پل کو 5 لاکھ 86 ہزار روپے، گورنمنٹ مڈل سکول گوہاوا کالونی کو 4 لاکھ 65 ہزار روپے، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کاہنہ نو کو 3 لاکھ 45 ہزار روپے،  جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول رینجرز کالونی کو 2 لاکھ 98 ہزار روپے کے فنڈز جاری کیے گئے۔ تاہم فاروقیہ ہائی سکول کو صرف 41 ہزار روپے اور پرائمری سکول جیون ہانہ کو 40 ہزار روپے دیے گئے، جبکہ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول جیون ہانہ کو صرف 63 ہزار روپے کی منظوری ملی۔

سکول سربراہان کا کہنا ہے کہ ہر دوسرے ماہ بجلی کے بل قرض لے کر ادا کیے جاتے ہیں اور فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے سکولوں میں بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ سکولوں کی اصل ضروریات کو جانے بغیر پی ایم آئی یو فنڈز تقسیم کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے لاہور کے سکولوں میں فرنیچر کی کمی اور رنگ و روغن کے کام بھی نہیں ہو سکے۔

 بچوں کی ضروریات اور سکول کی حقیقی حالت کے مطابق فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل بھی   سرکاری سکولوں کا نان سیلری بجٹ سے محروم رہ جانےکا انکشاف ہوا تھا  جس کے باعث سرکاری سکول شدید مالی بحران کا شکار تھے۔

 ذرائع کے مطابق نان سیلری بجٹ کی عدم فراہمی سے سکول سربراہان کو تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کر پڑ رہا تھا۔

سکول سربراہان کا کہنا تھا  کہ بجلی کے بلز اور دیگر واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث انہیں مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ اسکولوں کے اکاؤنٹس میں فنڈز منتقل ہی نہیں کیے جا رہے۔

ذرائع کے مطابق دسمبر 2026 میں نان سیلری بجٹ کی مد میں اسکولوں کو دوسری سہ ماہی کی قسط جاری کی گئی تھی، تاہم ایک ماہ گزرنے کے باوجود لاہور کے سرکاری اسکولوں کو اکتوبر، نومبر اور دسمبر کے فنڈز تاحال موصول نہیں ہو سکے۔