ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ کردار کشی اور توہین آمیز مہم کے خلاف دائر درخواست پر تحریری عبوری حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اس مہم کو آئینی نظام اور عدلیہ کے وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ایڈووکیٹ پرویز الٰہی کی جانب سے دائر درخواست پر عبوری حکم جاری کیا۔ عدالت نے ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ، این سی سی آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ عدالتی حکم کے مطابق رپورٹ میں توہین آمیز اور غیر قانونی مواد پوسٹ کرنے والے افراد کی مکمل فہرست بھی شامل کی جائے۔تحریری عبوری حکم میں عدالت نے واضح الفاظ میں قرار دیا ہے کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر کسی کو عدالتوں یا عدلیہ کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے کہا کہ آئینی نظام میں عدلیہ کا احترام بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے وقار کو مجروح کرنے والی کسی بھی منظم یا غیر منظم مہم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ متعلقہ حکام غیر قانونی اور توہین آمیز مواد کو روکنے کے پابند ہیں اور عدلیہ کے خلاف جاری سوشل میڈیا مہم کو فوری طور پر بند کرانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد کو سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے فوری طور پر ہٹایا جائے اور اس ضمن میں کیے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کی جائے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت عدلیہ کی آزادی اور وقار کو مجروح ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اور قانونی اقدامات کرے گی۔
اسی طرح لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد کے حوالے سے اپنی تفصیلی رپورٹ آئندہ سماعت پر عدالت میں جمع کروائے۔عبوری حکم میں جسٹس علی ضیاء باجوہ نے قرار دیا کہ قانونی تقاضا ہے کہ عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مہم اور غیر قانونی اقدامات سے سختی سے نمٹا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے تحت عدلیہ کا احترام اور اس کی آزادی ریاست کے بنیادی ستونوں میں شامل ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15 جنوری کو مقرر کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی رپورٹس مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش کریں۔