سٹی42: افغانستان پر قابض طالبان کی حکومت ہر ہفتے کوئی نہ کوئی محئیرالعقول فرمان ضرور جاری کرتی ہے ، اس ہفتے طالبان کا محئیر العقول فرمان 15 فروری کو عام تعطیل کا اعلان ہے۔ یہ عام تعطیل کس خوشی میں دی جا رہی ہے، یہ عام تعطیل نئے قومی دن کی خوشی مین دی جا رہی ہے۔ 36 سال پہلے سوویت یونین نے طے شدہ شیڈول کے مطابق افغانستان سے فوج واپس بلائی تو سوویت یونین کے آخری سپاہی نے 15 فروری کو بارڈر پار کیا تھا۔ آج طالبان حکومت نے 15 فروری کو اپنا نیا قومی دن قرار دے دیا ہے۔
کابل اور افغانستان کے بیشتر حصے پر افغان طالبان کے کنٹرول کے باوجود اس وقت افغانستان کے کچھ حصوں مین طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت جاری ہے اور مزاحمت کرنے والے وہی مجاہد گروپ ہیں جن سے لڑنے کے لئے سوویت یونین کی فوج چھیالیس سال پہلے افغانستان آئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کل ان مزاحمت کرنے والوں کو سابق سوویت یونین کی ریاستوں کی ویسی ہی حمایت حاصل ہے جیسی سوویت یونین کے زمانہ میں نیٹو اور امریکہ کرتے تھے۔
15 فروری 1989 کو سوویت فوج کی افغانستان سے رسمی واپسی کا دن تو مانا جاتا ہے لیکن سوویت یونیفارمڈ فوجی معاونین اس کے بعد بھی کابل مین موجود رہے اور سوویت فوج کی واپسی کے بعد ساری دنیا کو یہ حیرت ناک آگاہی حاصل ہوئی کہ کابل سمیت ملک کے بیشتر حصوں پر مؤثر کنٹرول رکھنے والی افغانستان کی خلق حکومت اور اس کی قومی فوج امریکہ، پاکستان اور مغربی ملکوں کی مدد سے لڑنے والے مجاہدین کو اپنی شہروں اور قصبوں سے دور رکھنے کے لئے کافی تھی۔
ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت سوویت یونین کی مدد کے بغیر ہی اتنی مضبوط تھی کہ وہ ساری دنیا کی پشت پناہی سے چل رہی سبوتاژ سرگرمیوں اور شب خون حملوں کے سامنے 1992 تک ڈٹی رہی۔ اس عرصہ کے دوران سوویت یونین تو ٹوٹ گیا لیکن مجاہدین سے نجیب اللہ کی حکومت نہیں ٹوٹی۔ "طالبان" کا اس وقت کہیں کوئی وجود نہیں تھا۔
پاکستان کی سرپرستی میں اسلام آباد میں افغان مجاہدین کے گروپوں کا باہمی سمجھوتہ ہونے کے بعد جن مجاہدین نے مسلسل کوشش کر کے 1992 میں کابل پر قبضہ کیا تھا انہیں طالبان نے چار ہی سال بعد کابل سے باہر نکال دیا تھا اور خود ستمبر 1996 میں کابل پر قبضہ کر لیا تھا جو نائن الیون کے بعد 2001 میں امریکہ اور شمالی افغانستان کی فورسز کے مشترکہ حملوں سے ختم ہو گیا تھا۔ اب افغان طالبان کی حکومت نے 15 فروری کو "افغانستان کا قومی دن" قرار دے دیا ہے اور کل 15 فروری کو افغانستان بھر میں عام تعطیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان یعنی افغان طالبان کی جانب سے آج جمعہ کے روز نشر کروائے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سوویت افواج کے انخلاء کو 36 برس ہوگئے۔ یہ دن افغان قوم کے لئے افتخار کا دن ہے۔ افغان قوم کسی بیرونی سازش کا شکار نہ ہو اور افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔
سویت یونین کی فوج افغانستان میں 10 برس تک موجود رہی تھی اور اس کی حلیف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کی حکومت 15 فروری 1989ء کو سوویت فوج کی واپسی کے بعد 1992 تک کابل سے جلال آباد تک ہر جگہ مستحکم تھی۔ روسی فوج کی معاونت سے محرومی کے بعد اس حکومت کو اکھیڑنے میں دنیا بھر کی پشت پناہی سے لڑنے والے گروہوں کو جتنا عرصہ لگا تھا، پسپائی پر مجبور ہوئی تھیں۔ اتنے کی عرصے میں ان کی اپنی حکومت بھی اکھڑ گئی تھی اور اتنے ہی عرصے میں خود طالبان کی پہلی حکومت بھی سارے ملک پر نیٹو کا قبضہ ہونے کے بعد جلاوطن ہو کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہو گئی تھی۔
افغان مجاہدین کے ہاتھوں اس وقت کے طاقتور "سوویت یونین کی شکست" کا عالمی سطح پر اب تک پروپیگنڈا کیا جاتا ہے لیکن جب 2021 مین امریکہ اور نیٹو اتحادی اپنے جنگی جہاز تک افغانستان مین چھوڑ کر کابل کو افغان طالبان کے حوالے کر گئے تو ماضی کے مجاہدوں میں سے کچھ نے امریکہ اور نیٹو اتحادیوں پر بظاہر حاوی طالبان کے خلاف مزاحمت جاری رکھی اور آج کل وہ پرانے سوویت یونین کی ریاستیں ان سابق مجاہدوں کی میزبان اور مددگار ہیں۔