ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غزہ جنگ بندی بچ گئی، حماس نے کل رہا کرنے کیلئے تین یرغمالیوں کے نام دے دیئے

Hostages deal, Doha deal, Gaza ceasefire deal, Hamas Israel conflict, list of the hostages, city42
کیپشن: اسرائیل کی حکومت کی پابندی کے باعث میڈیا نے کل ہفتہ کے روز رہا ہونے والے تین یرغمالیوں کے نام اب تک شائع نہیں کئے لیکن اسرائیل میں توقع کی جا رہی ہے کہ کل رہا ہونے والے تین مرد یرغمالی ان نو میں سے ہی ہوں گے جن کے بارے میں معمولی شواہد کی بنا پر یقین کیا جا رہا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ آٹھ یرغمالیوں کے متعلق حماس کی دی ہوئی نامکمل انفرمیشن کی بنا پر خدشہ ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔ یہ لوگ ان 33 میں شامل ہیں جنہیں غزہ جنگ بندی ڈیل کے پہلے مرحلہ میں 42 روز میں رہا کیا جانا تھا۔ اوپر کی قطار سے L-R: یرغمال متان اینگریسٹ؛ یوسف چیم اوہانا؛ گلی برمن؛ درمیانی قطار: زیو برمن؛ عمری میراں؛ ایلون اوہیل؛ نیچے کی قطار: نمرود کوہن؛ ایلیا کوہن؛ الکانہ بوہبوت؛ ایتان مزید۔ (بشکریہ)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پیر کے روز یرغمالیوں کی رہائی کا سلسلہ منقطع کرنے کے بعد آج جمعہ کے روز حماس نے تین مرد یرغمالیوں کے نام بتائے جنہیں وہ کل ہفتے کو رہا  کرے گی۔ ان یرغمالیوں کو حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل نے اندر کھس کر اغوا کرنے کے بعد سے غزہ میں اپنی خفیہ پناہ گاہوں میں چھپا رکھا ہے۔

حماس  نے تین مرد یرغمالیوں کے نام بتائے ہیں جنہیں یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے  کی چھٹی قسط کے ایک حصے کے طور پر کل قید سے رہا کیا جائے گا۔

اسرائیل کے میڈیا نے یہ خبر نشر کر دی ہے تاہم کل رہا ہونے والوں کے نام  جمعہ کی شام تک نہیں بتائے کیونکہ اسرائیلی حکام نے درخواست کی ہے کہ جب تک یرغمالیوں کے اہل خانہ کو مطلع نہیں کیا جاتا میڈیا اداروں کے نام شائع نہ کریں۔

دوحہ ہوسٹیجز ڈیل کے مطابق حماس ہر ہفتے تین یرغمالیوں کو رہا کرتی ہے جن کے ناموں سے اسرائیل کو جمعہ کی صبح مطلع کیا جانا لازمی ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اس جمعہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حماس نے یرغمالیوں کی رہائی سے پہلے جمعہ کی دوپہر سے پہلے ان کے نام اسرائیل تک پہنچائے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے بھی جنگ بندی معاہدہ کے متعلق حماس کی کچھ شکایات کا ازالہ کئے جانے کی توقع ہے تاہم حماس کے بڑے مطالبہ یعنی ہیوی مشینری کو غزہ جانے کی اجازت دینے پر اسرائیل اب بھی تیار نہیں۔ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ حماس اس ہیوی مشینری کو اپنی سرنگوں کے نیٹ ورک کی بحالی کے لئے استعمال کرے گی۔ 

بعد میں جن تین یرغمالیوں کو کل رہا کیا جانا ہے ان کے نام سامنے آ گئے۔ 

یروشلم میں پرائم منسٹر کے دفتر نے بتایا کہ  اسرائیل کو مصر اور قطر سے تین یرغمالیوں کے نام موصول ہو گئے ہیں جن کے نام حماس ہفتے کو جاری کر دیں گے۔

جن تین یرغمالیوں کے لواحقین کی اذیت کل ختم ہو گی ان کے نام ساشا تروفانوف (29)، ساگوئی ڈیکل-چن (36) اور یائیو ہارن (46) ہیں۔

پی ایم او کا کہنا ہے کہ یہ تین کی فہرست قابل قبول ہے اور یرغمالیوں کے اہل خانہ نے ناموں کو جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے پہلے جب حماس نے کل ہفتے کے روز مزید یرغمالی رہا کرنے سے انکار کیا تھا تو اسرائیل کی حکومت نے جواب میں جنگ کی دھمکی کے ساتھ یہ مطالبہ کیا تھا کہ پہلے مرحلہ میں رہا کئے جانے والے باقی 9 زندہ یرغمالیوں کو ایک ہی بات کل آنے والے ہفتے کی دوپہر تک رہا کیا جائے۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ کل تین ہی یرغمالی رہا ہوں گے اور کم از کم چھ باقی زندہ یرغمالیوں کی گھر واپسی مین کم از کم پندہ مزید دن لگیں گے

Caption کل ہفتہ کے روز غزہ میں حماس کی قید سے رہا ہونے والے تین یرغمالیوں کے نام  یائیو ہورن،ساشا ترفانوو اور سگئی دیکال شین ہیں۔ (بشکریہ)

یرغمالیوں کے لواحقین کیلئے نیا کنفیوژن پیدا ہو گیا

مصری ثالث کے ذریعہ اسرائیل کو جن تین کل ہفتہ کے روز رہا ہونے والے یرغمالیوں کے نام ملے ہیں وہ تینوں اتفاق سے اس نو یرغمالیوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے جن کے بارے مین یرغمالیوں کے لواحقین کو  انتہائی موہوم، کئی مہینے پہلے کے شواہد کی بنا پر یقین ہے کہ وہ  حماس کی قید میں زندہ ہیں۔ 

کنفیوژن کی بنیاد حماس کا ایک مبہم اعتراف ہے کہ جن 33 یرغمالیوں کو  نام نہاد "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر" پہلے رہا کیا جانا تھا ان میں سے 8 یرغمالی دراصل زندہ نہین ہیں۔ اب تک اسرائیل میں کمفیوژن ہے کہ کون زندہ ہے، کون اسیری میں مر چکا ہے۔ آج جمعہ کے روز سامنے آنے والے تین ناموں سے ایک بار پھر یہ کنفیوژن بڑھنے کا خدشہ ہے کہ حماس کے اس مبہم اعتراف کی کیا حقیقت ہے کہ آٹھ افراد مر چکے ہیں۔ 

سب سے زیادہ بے چینی شیری بیباس کے حوالے سے ہے جن کے ساتھ  پانچ سال سے کم عمر کے دو بچے بھی اغوا ہوئے تھے۔ ان کے شوہر یردن بیباس کو رہا کیا جا چکا ہے لیکن ان کے متعلق نہ تو کوئی مصدقہ اطلاع دی گئی نہ ان کی رہائی ہوئی حالانکہ دوحہ ڈیل کے مطابق سب سے پہلے رہا ہونے والوں میں شیری بیباس کو ہی رہا کیا جانا تھا۔