سٹی42: انگلینڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کا نیا E1 سیٹلمنٹ پلان 'ابھی روک دیا جانا چاہیے'۔
انگلینڈ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے آج جمعرات کے روز کہا ہے کہ اسرائیل کی حکومت نے ایک ایسی بستی کی تعمیر کا منصوبہ بنا رہا ہے جو مغربی کنارے کو تقسیم کر کے اسے مشرقی یروشلم سے منقطع کر دے؛ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
"برطانیہ اسرائیلی حکومت کے E1 آباد کاری کے منصوبوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، جو مستقبل کی فلسطینی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرے گا اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرے گا۔ ان منصوبوں کو اب روکا جانا چاہیے،" لیمی نے ایک ای میل بیان میں کہا۔
بیزلل سموٹرچ کا یروشلم اور رام اللہ کو ہمیشہ کیلئے الگ رکھنے کا منصوبہ آج ہی سامنے آیا ہے۔ سموٹرچ کی جانب سے یہ بات خود پبلک کی گئی کہ وہ ای ون سیٹلمنٹ کے ایک نئے محلے کی تعمیر کے لئے ٹینڈر طلب کر رہے ہیں جس میں 3400 سے زیادہ مکان ہوں گے۔ ای ون سیٹلمنٹ پر کام 2012 مین بین الاقوامی برادری کی مخالفت کی وجہ سےروکنا پرٓ تھا۔ اس وقت بھی اسرائیل مین موجودہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت تھی جس نے اس سیٹلمنٹ کو شروع کیا تھا لیکن بعد مین انٹرنیشنل مزاحمت کے سبب اسے روک دیا۔ تب سے یہ منصوبہ سرد خانے میں پڑاتھا، آج اچانک سموٹرچ نے ای ون بستی کی تعمیر دوبارہ شروع کروانے کا اعلان کر کے یہ بھی کہا کہ وہ (اپنے تئیں) فلسطینی ریاست کے آئیڈیا کو دفن کر رہے ہیں۔ سموٹرچ نے " فسلطینی ریاست کے آئیڈیا" کو دفن کرنے کا اعلان آسٹریلیا کے ستمبر میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کے چند روز بعد کیا ہے۔ اس سے پہلے فرانس فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر چکا ہے اور انگلینڈ اور کینیڈا نے ستمبر مین جنرل اسمبلی کے موقع پر فلسطین کو تسلیم کرنے کی وارننگ دے رکھی ہے، ان دونوں ممالک کی وارننگ میں غزہ میں ہیومینیٹرین کرائسس ختم کرنے کے ساتھ اسرائیل کے ویسٹ بینک میں سیٹلمنٹس کی پالیسی کو بدلنا بھی شامل تھا۔