سٹی42: اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلل سموٹرچ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں یروشلم اورمآل عدومیم Ma'ale Adumim کے درمیان انتہائی متنازع ای ون E1 سیٹلمنٹ پروجیکٹ میں 3,000 سے زائد ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بیزلل سموٹرچ نے کہا کہ ان کا یہ اقدام "فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کر دے گا۔"
سموٹریچ نے طویل عرصے سے منجمد E1 سیٹلمنٹ پروجیکٹ میں 3,401 ہاؤسنگ یونٹس کے لیے ٹینڈرز کا اعلان کیا: 'فلسطینی ریاست کے خیال کو دفن کرنا'
ٹائمز آف اسرائیل نے جمعرات 14 اگست کو رپورٹ کیا, "انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ Bezalel Smotrich نے اعلان کیا کہ وہ مغربی کنارے میں یروشلم اور Ma'ale Adumim کے درمیان انتہائی متنازع E1 سیٹلمنٹ پروجیکٹ میں 3,000 سے زائد ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ یہ اقدام "فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کر دیتا ہے۔""
ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں لکھا، "بین الاقوامی برادری کی شدید مخالفت کے سبب اس منصوبے کو کئی دہائیوں سے منجمد کر دیا گیا ہے، جنہیں خدشہ ہے کہ اس نئی بستی کا قیام ایک متصل، قابل عمل فلسطینی ریاست کو روک دے گا۔"
"E1 میں تعمیراتی منصوبوں کی منظوری فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کر دیتی ہے اور ان بہت سے اقدامات کو جاری رکھتی ہے جو ہم اصل خودمختاری کے منصوبے کے حصے کے طور پر اٹھا رہے ہیں جسے ہم نے حکومت کے قیام کے ساتھ نافذ کرنا شروع کیا تھا،" سموٹریچ نے ایک بیان میں کہا۔
سموٹرچ نے کہا، "کئی دہائیوں کے بین الاقوامی دباؤ اور جمود کے بعد، ہم کنونشنز کو توڑ رہے ہیں اور مآل عدومیم Ma'ale Adumim کو یروشلم سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ صہیونیت کی اپنی بہترین کوشش ہے - اسرائیل کی سرزمین میں اپنی خودمختاری کی تعمیر، آباد کاری اور مضبوطی،" سموٹریچ آج کل وزارت دفاع کے وزیر بھی ہیں اور وزارتِ دفاع مغربی کنارے میں سویلین ترقی کے ایشوز کو نمٹانے کی بھی ذمہ دار ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا، " نام نہاد ای ون E1 زون میں مآل عدومیم Ma'ale Adumim کی بستی کے لیے ایک نئے محلے کی ممکنہ تعمیر طویل عرصے سے بین الاقوامی برادری کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ مغربی کنارے کو شمالی اور جنوبی علاقوں میں تقسیم کر دے گا اور ایک ایسے فلسطینی میٹروپولیس کے قیام کے امکان کو روک دے گا جو مشرقی یروشلم کو بیت المقدس اور رام اللہ سے ملاتا ہ ہو۔ جس کی فلسطینیوں کو طویل عرصے سے امید تھی کہ یہ ان کی مستقبل کی ریاست کی بنیاد کا کام کرے گا۔"
تاہم، پیس ناؤ سیٹلمنٹ واچ ڈاگ کے مطابق، بیزلل سموٹرچ کے منظور شدہ منصوبے اصل E1 پلان کے لیے نہیں ہیں، بلکہ مآل عدومیم Ma'ale Adumim کے ایک الگ محلے کے لیے ہیں۔
"Ma'ale Adumim میں 3,300 ہاؤسنگ یونٹس سیٹلمنٹ کے ہاؤسنگ اسٹاک میں تقریباً 33% کے اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں - ایک ایسی بستی کے لیے ایک زبردست توسیع ہو گی جس کی آبادی پچھلی دہائی سے تقریباً 38,000 پر رکی ہوئی ہے اور اس سے بہت لوگ چھوڑ کر چلے گئے، اس آبادی نے خالص "باہر منتقلی" کا تجربہ کیا ہے۔"
روئٹرز کی رپورٹ
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرخزانہ بیزلل سموٹرچ نے مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے سے الگ کرنے (والے ایک سیٹلمنٹ کی تعمیر کے منصوبے) کی منظوری دے دی ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ کے ترجمان کے مطابق اس اقدام سے فلسطینی ریاست بننے کا خیال دفن کر دیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق اس منصوبے کے تحت مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان 3401 گھر اسرائیلی آباد کاروں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ آباد کاروں کے لیے مکانات کی تعمیر سے متعلق جلد بتایا جائے گا۔
روئٹرز کی میں بتایا گیا کہ یہ واضح نہیں کہ اسرائیلی وزیراعطم نیتن یاہو نے اس منصوبے کی بحالی کی حمایت کی ہے یا نہیں۔
روئٹرز نے بتایا، یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں بلکہ اتحادیوں اورعالمی طاقتوں کے اعتراضات پراسرائیل نے 2012 میں یہ منصوبہ روک دیا تھا اور دوبارہ اس پر کام کرنے پر بھی عالمی سطح پر مخالفت کیے جانے کا امکان ہے۔
بے دخلی اور دیگر جرائم میں اضافہ کا منصوبہ: فلسطینی وزیر خارجہ کا بیان
روئٹرز نے بتایا کہ فلسطینی وزیر خارجہ نے اسرائیلی آباد کاری کے نئے منصوبے کو قتل عام، بے دخلی اور دیگر جرائم میں نیا اضافہ قرار دیا۔
اس سے قبل اگست کے شروع میں اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ پر عسکری قبضے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔
اس بارے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے غزہ کے تمام علاقوں کا کنٹرول سنبھالنا چاہتے ہیں۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ غزہ پر حکمرانی نہیں چاہتے اور غزہ کو سویلین حکومت کے حوالے کریں گے۔
اب نئے منصوبے کے بعد مغربی کنارے میں آباد کاری کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ادارے پیس ناؤ نے بتایا کہ وزارت ہاؤسنگ کی جانب سے Maale Adumim میں 3300 گھروں کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق ای 1 نامی یہ منصوبہ مستقبل میں 2 ریاستی حل کے تمام امکانات ختم کر دے گا۔ پیس ناؤ نے کہا، ہم تباہی کے قریب کھڑے ہیں اور حکومت ہمیں تیز رفتاری سے اس جانب لے جا رہی ہے۔