ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گریٹر اسرائیل کے تصور سے متعلق تاریخی اور روحانی مشن پر ہوں: نیتن یاہوکادعویٰ

Greater Israel, Controversial consept of The Greater Israel, City42 Netanyahu on Spiritual mission
کیپشن: وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ایک تعویذ کو دیکھ رہے ہیں جس میں "موعود شدہ سرزمین کا نقشہ" دکھایا گیا ہے، جسے ان کے انٹرویو لینے والے نے 12 اگست 2025 کو دیا تھا۔ (سکرین شاٹ i24 نیوز)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: اسرائیل میں غیر مقبول، امریکہ, فرانس، انگلینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے اتحادی ملکوں میں غیر مقبول ہونے کے بعد اسرائیل کے دائیں بازو کے اتحاد کے وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ایک 'تاریخی اور روحانی مشن' پر ہیں، گریٹر اسرائیل کے وژن سے بھی تعلق محسوس کرتے ہیں.
وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے i24 TV سے ایک انٹرویو میں جرنلسٹ کو بتایا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایک "تاریخی اور روحانی مشن" پر ہیں، اور یہ کہ وہ وعدہ شدہ سرزمین اور عظیم تر اسرائیل کے وژن سے "بہت زیادہ" وابستہ ہیں۔

اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعتوں کی  اتحادی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو کا "گریٹر اسرائیل" کے تصور پر کھل کر بات کرنے کا واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کی حکومت کے ایک  زیادہ دائیں بازو کی جماعت کے نمائندہ وزیر سموٹریچ ایک متنازعہ سیٹلمنٹ کے منجمد شدہ منصوبے کو دوبارہ منظوری کے لئے لے کر  آئے ہیں۔  سموٹریچ نے ای ون سیٹلمنٹ کے منجمد شدہ منصوبے پر کام شروع کرنے کے لئے  تین ہزار چار سو رہائشی یونٹ تعمیر کرنے کے لئے ٹینڈر دینے کا اعلان کیا ہے۔

گریتر اسرائیل کا ویژن اور نیتن یاہو

ٹائمز آف اسرائیل نے اس انٹرویو کے متعلق اپنی رپورٹ میں لکھا، "اس انٹرویو کے اختتام کے قریب انٹرویو کرنے والے شیرون گال، جو مختصر دورانیہ کے لئے  کنیسیت کے دائیں بازو کے رکن  بھی رہ چکےہیں،  نیتن یاہو کو تحفہ دیتے ہیں، جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ "وعدہ شدہ سرزمین کا نقشہ" کا تعویذ ہے۔"

اپنے اس تحفہ دینے کے متعلق شیرون گال نے کہا، "یہ میرا نقطہ نظر ہے۔"  وہ طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو وزیر اعظم کے خلاف مقدمے میں مزید "الجھانا" نہیں چاہتے کہ مبینہ طور پر ان کے اور ان کی اہلیہ سارہ کے لیے متعدد تاجروں سے زیورات اور دیگر لگژری سامان وصول کیے گئے، لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ چاہیں گے کہ نیتن یاہو سارہ کو تعویذ دیں۔ "آپ کا شکریہ،" نیتن یاہو کہتے ہیں۔

"کیا آپ ویژن سے جڑے ہوئے ہیں؟" شیرون گال اس سے پوچھتا ہے۔

’’بہت زیادہ،‘‘ وزیراعظم نے جواب دیا۔

"واقعی؟" Gal پوچھتا ہے.

’’بہت زیادہ،‘‘ نیتن یاہو نے دہرایا۔

"یہ عظیم تر اسرائیل ہے،" گال نے زور دیا۔

"اگر آپ مجھ سے پوچھیں، ہم یہاں (گریٹر اسرائیل کے تصور کے قریب؟) ہیں،" نیتن یاہو نے جواب دیا، پھر توقف کیا، پھر آگے بڑھتا ہے، "آپ جانتے ہیں کہ میں اکثر اپنے والد کا ذکر کرتا ہوں۔ میرے والدین کی نسل کو ریاست قائم کرنی تھی۔ اور ہماری نسل-  میری نسل کو اپنے جاری رہنے کی ضمانت دینا ہوگی۔ اور میں اسے ایک عظیم مشن کے طور پر دیکھتا ہوں۔" اس کے بعد وہ آج اسرائیلیوں میں مشن کے احساس پر بات کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے، اور سپاہیوں، بشمول ریزروسٹ فوجیوں اور ان کی بیویوں کے درمیان مقصد کے اس احساس کو اجاگر کرتا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس گفتگو کے دوران وہ تعویذ ( گریٹر اسرائیل کا نقشہ) خود سکرین پر نظر نہیں آتا۔

آئی24 نے انٹرویو کا یہ حصہ اپنی یو ٹیوب  چینلز پر کی گئی پوسٹوں میں شامل نہیں کیا

نیتن یاہو اور جنرلسٹ کی گفتگو کے اس ٹکڑے  کو i24 کی طرف سے عبرانی میں اپنی Youtube سائٹ پر پوسٹ کردہ انٹرویو کی ویڈیو سےحذف کر دیا گیا ہے، اور i24 کی انگریزی Youtube سائٹ پر انٹرویو کے مختصر ورژن میں بھی  انٹرویو کا یہ حصہ ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ نیتن یاہو کے انٹرویو کا یہ حصہ  i24 کی اپنی عبرانی ویب سائٹ پر ظاہر ہوتا ہے (31:14 سے شروع ہوتا ہے)۔

"گریٹر اسرائیل" کا تصور کیا ہے؟

گریٹر اسرائیل کی اصطلاح جون 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل اور ان علاقوں کے لیے استعمال کی گئی جو اس نے ابھی فتح کیے تھے — ان میں مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، جزیرہ نما سینائی اور گولان کی پہاڑیاں شامل ہیں۔

ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں  لکھا،  یہ جملہ (ٹرم گریٹر اسرائیل)  کچھ ابتدائی صیہونیوں نے بھی استعمال کیا، جن میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کے پیشرو  زیو جبوتنسکی Zeev Jabotinsky بھی شامل ہیں،ان لوگوں نے موجودہ اسرائیل، غزہ اور مغربی کنارے اور موجودہ اردن کا حوالہ دینے کے لیے اس ٹرم "گریٹر اسرائیل" کا استعمال کیا۔

وعدہ شدہ سرزمین اور عظیم تر اسرائیل کے "وژن" سے اس کے تعلق کے بارے میں گال کا سوال اس وقت آتا ہے جب اس نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ کیا اسے لگتا ہے کہ وہ یہودی لوگوں کی طرف سے کسی مشن پر ہے۔ نیتن یاہو نے جواب دیا کہ وہ "نسلوں کے مشن پر ہیں - یہودیوں کی نسلیں ہیں جو یہاں آنے کا خواب دیکھتے  رہے اور یہودیوں کی نسلیں ہیں جو ہمارے بعد آئیں گی۔"

"لہذا اگر آپ پوچھ رہے ہیں کہ کیا مجھے تاریخی اور روحانی طور پر مشن کا احساس ہے، تو جواب ہاں میں ہے،" وہ کہتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی کہا ہےکہ اُن کی کئی عرب ممالک سے بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے سے متعلق بات چیت ہورہی ہے تاہم نیتن یاہو نے اپنی گفتگو کے دوران ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔

گریٹر اسرائیل کا حوالہ استعمال کرنے پر عرب ممالک کی مذمت
بنجمن نیتن یاہو کے اس انٹرویو کے نشر ہونے کے بعد سعودی عرب  اور اردن نے ، مصر اور عرب لیگ نے نیتن یاہو کے گریٹر  اسرائیل سے متعلق بیان کو  مسترد کردیا اور اس کی مذمت کی۔

توسیع پسندی کو مسترد کرتے ہیں: سعودی عرب

  سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب اسرائیلی قابض حکام کی طرف سے اختیار کیے گئے آباد کاری کے اور توسیع پسندانہ منصوبوں کو یکسر مسترد کرتا ہے۔

علاقائی خودمختاری کیلئے سنگین خطرہ: اردن

اردن  کی حکومت نے نیتن یاہو کے بیان کو علاقے کی خودمختاری کے لیے سنگین خطرہ قرار دیدیا۔

نیتن یاہو کا بیان خطہ میں امن کے خلاف

مصر نے اسرائیل سے نیتن یاہو  کے بیان پر  وضاحت طلب کرنے کا مطالبہ کردیا، مصر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا بیان خطے میں امن کے خلاف ہے۔

عرب سلامتی کیلئے سنگین خطرہ، بین الاقوامی قوانین کے لیے کھلا چیلنج

عرب لیگ نے نیتن یاہو کے بیان پر  رد عمل دیتے ہوئے کہا  کہ یہ عرب ممالک کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔

عرب لیگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بیان  جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں  جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

  یمن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں نیتن یاہو کے بیان کو  بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیدیا، یمن نے خبردار کیا کہ ان اسرائیلی پالیسیوں کا تسلسل خطے کو مزید کشیدگی کی طرف لے جائے گی۔ 

چند ماہ پہلے بھی گریٹر اسرائیل کا نقشہ  سوشل ویب سائیٹ پر پوسٹ کیا گیا تھا۔  اس نقشے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے علاوہ اردن، شام، لبنان اور دیگر عرب ممالک کو اسرائیلی ریاست کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ تب بھی اس نقشے پر تنقید ہوئی تھی اور اسے نیتن یاہو کے توسیع پسندانہ عرزائم کا اظہار قرار دیا گیا تھا لیکن اس وقت نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے وزیر اس موضوع پر خاموش رہے تھے۔

نیتن یاہو پر مغربی اتحادیوں کی سخت تنقید مسلسل سامنے آ رہی ہے۔ فرانس اور اس کے بعد انگلینڈ، کینیڈا اور  چند روز پہلے آسٹریلیا کی حکومتیں نیتن یاہو کی غزہ میں ہیومینیٹیرین کرائسس پیدا کرنے اور اسے بڑھانے کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لینے کے اعلانات کر چکی ہیں۔  تازہ ترین تنقید آسٹریلیا کے پرائم منسٹر انتھونی البانی کی طرف سے آئی جنہوں نے حکومتی اشاعتی ادارہ سے انٹرویو میں وضاحت کے ساتھ بتایا کہ ان کی حکومت آسٹریلیا کی دیرینہ پالیسی میں تبدیلی کرنے پر نیتن یاہو کے ہٹ دھرم رویہ کی وجہ سے مجبور ہوئی ہے.

پرائم منسٹر نیتن یاہو کو ایک برا صدمہ حال ہی میں امریکہ میں کئے جانے والے سروے کے نتائج سے ہوا، اس سروے کے نتیجہ سے معلوم ہوا کہ نیتن یاہو امریکہ میں غیر مقبولیت کی نئی انتہا پر ہیں اور وہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں ہی نہیں بلکہ ری پبلکن پارٹی کے حامیوں میں بھی اپنی غزہ جنگ کی وجہ سے غیر مقبول ہو رہے ہیں۔