ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اردوان نے نیتن یاہو کے شرم الشیخ آنےکاراستہ کیسےبندکیا؛ ترک میڈیاکیرپورٹ

رجب طیب اردوان، بنجامن نیتن یاہو، شرم الشیخ کانفرنس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کے وزیراعظم  بنجامن نیتن یاہو کے شرم الشیخ امن کانفرنس میں آنے کا راستہ ایسا بند کیا کہ نیتن یاہو اس اہم اجتماع میں شریک ہونے کی شدید خواہش کے باوجود وہاں آنے کی ہمت نہیں کر سکے جہاں کئی اسلامی ملکوں کے سربراہ جمع ہیں۔

 اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کی خبریں سامنے آئین تو ترکیہ کے صدر اردوان نے اس تقریب میں نیتن یاہو کی موجودگی میں وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا۔  طیب اردوان کا پیغام شرم الشیخ میں امن مذاکرات کے میزبان مصر کی قیادت تک پہنچا تو  صورتحال میں ڈرامائی موڑ آ گیا۔ نیتن یاہو کو شرم الشیخ آنے سے رکنا پڑا۔  وہاں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر پاکستان کے پرائم منسٹر شہباز شریف تک بہت سے ملکوں کے سربراہ موجود تھے لیکن نیتن یاہو غیر حاضر ہونے پر مجبور تھے۔  

 کیونکہ نیتن یاہو کے آنے کی صورت میں ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے مصر میں لینڈ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ترک نشریاتی ادارے سی این این ترک کی صحافی کے مطابق ترک صدر کا طیارہ شرم الشیخ ائیرپورٹ پر اترنے ہی والا تھا کہ اچانک طیارہ دوبارہ فضا میں بلند ہونے لگا۔

صحافی نے بتایا کہ ترکیے نے واضح پیغام دیا تھا کہ اگر نیتن یاہو اجلاس میں شریک ہوئے تو ترک وفد اجلاس میں شامل نہیں ہوگا۔

صحافی کے بقول اگر نیتن یاہو وہاں موجود ہوتے تو تب بھی ترک وفد کا اُن کے ساتھ ایک ہی فریم میں ہونا ممکن نہیں تھا۔ تب بھی اردوان نے نیتن یاہو کو اس کانفرنس سے دور رکھنے کے لئے سخت رویہ اختیار کیا۔

 اس سفارتی تنازع کے دوران صدر اردوان کا طیارہ  بحیرہ احمر کے اوپر فضا میں چکر لگاتا رہا۔

طیارے کی لینڈنگ صرف اسی وقت ممکن ہوئی جب اجلاس میں نیتن یاہو کی شرکت منسوخ کر دی گئی۔ نیتن یاہو کے دفتر نے بعد میں یہ کہہ کر شرکت سے انکار کا عذر پیش کیا کہ سربراہی اجلاس کا وقت یہودی تہوار کے قریب ہے۔

اس سے پہلے صدر ٹرمپ کے اسرائیل پہنچنے کے بعد مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے اسرائیلی وزیر اعظم سے ٹیلی فونک گفتگو کی تھی جس میں انہوں نے نیتن یاہو کے آج کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی جو نیتن یاہو نے قبول کرلی تھی۔

بعد ازاں اسرائیلی میڈیا کی جانب سے بتایا گیا کہ نیتن یاہو شرم الشیخ میں ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کررہے۔