سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 142 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے قریبی تعلقات کی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے متعلق سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ اس ہمہ گیر معاہدہ میں توانائی، دفاع، کان کنی اور دیگر شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اس اہم بات چیت کے دوران سعودی عرب کو امریکہ کے جدید ترین ایف 35 سٹیلتھ طیاروں کی فروخت پر بھی بات ہوئی ہے۔ تاہم اس بات چیت کا نتیجہ معلوم نہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ سعودی عرب امریکہ میں 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں اتحادیوں کے درمیان "تاریخ کا سب سے بڑا" ہتھیاروں کا معاہدہ بھی شامل ہے، جس کی مالیت تقریباً 142 بلین ڈالر ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سعودی عرب کے ساتھ ایک سٹریٹجک اقتصادی معاہدے پر دستخط کئے۔ سعودی عرب کی طرف سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی امریکی تعاون کی تاریخ کے غیر معمولی معاہدے پر دستخط کیےاس معاہدہ میں توانائی، دفاع، کان کنی اور دیگر شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب امریکہ میں 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں اتحادیوں کے درمیان "تاریخ کا سب سے بڑا" ہتھیاروں کا معاہدہ بھی شامل ہے، جس کی مالیت تقریباً 142 بلین ڈالر ہے۔
"مجھے واقعی یقین ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے ہیں،" ٹرمپ نے ریاض میں سعودی عرب کے ولی عہد ک پرنس محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا۔
ٹرمپ کے ساتھ ارب پتی ایلون مسک اور کئی دوسرے امریکی کاروباری رہنما بھی گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنے وفد کے ساتھ کل ریاض سے قطر اور جمعرات کو متحدہ عرب امارات جائیں گے۔
ٹرمپ کے اسرائیل کو نظرانداز کرنے پر چہ مگوئیاں
یہ صدر ٹرمپ کا دوسری مرتبہ وائٹ ہاؤس پہنچنے کے چار ماہ بعد مشرق وسطیٰ کا پہلا وزٹ ہے، صدر ٹرمپ نے اس دورہ کے دوران اسرائیل کو مکمل نظر انداز کیا ہے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ اب تک اسرائیل بھی نہین گئے جبکہ اسرائیل کے پرائم منسٹر نیتن یاہو کا قریبی دوست تصور کیا جاتا ہے۔ اس بات پر چہ مگیوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل میں رکنے کا شیڈول نہیں بنایا ہے۔ اسرائیل کے پرسپیکٹو میں یہ صدر ٹرمپ کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے اس بارے میں سوالات اٹھائے ہیں کہ قریبی اتحادی اسرائیل واشنگٹن کی ترجیحات میں کہاں کھڑا ہے، اور اس سفر کی توجہ مشرق وسطیٰ میں "سیکیورٹی کے معاملات "کے بجائے سرمایہ کاری پر مرکوز ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ صدارت کے دوران انہوں نے سعودی عرب سے ساتھ اسرائیل کے تعلق کی نارملائزیشن کی ابتدائی کوشش کی تھی، بعد میں صدر جو بائیڈن کی ھکومت نے اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات نارمل کرنے کے لئے کوشش کی جس کے کچھ نتائج بھی سامنے آئے، اس دوران ہی حماس کے اسرائیل پر حملے سے غزہ کی جنگ شروع ہو گئی جو اب تک جاری ہے۔
غزہ کی جنگ رکوانے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا مین کردار ادا کرنے کی کوشش کی تھی، آخری لمحات میں ان کی کوشش حماس کے ساتھ براہ راست رابطہ کر کے امریکی اسرائیلی یرغمالی نوجوان کی رہائی یقینی بنانے تک محدود ہو گئی۔ اس اسرائیلی امریکی نوجوان ایڈن الیگزینڈر کو کل رہا کیا جا چکا ہے۔