ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نور مقدم قتل کیس:مجرم  ظاہر جعفر کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت، التواء کی درخواست مسترد

نور مقدم قتل کیس:مجرم  ظاہر جعفر کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت، التواء کی درخواست مسترد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

امانت گشکوری:  سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر جعفر کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران مجرم کے وکیل سلمان صفدر نے کیس میں التواء کی استدعا کی جس پر عدالت نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے استدعا مسترد کر دی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ کیس سے متعلق کچھ اہم دستاویزات پیش کی جانی ہیں جو مقدمے کا رخ یکسر بدل سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر جعفر ذہنی مریض ہے اور عدالتوں نے اس اہم نکتے کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جب آپ خود عدالت میں موجود ہیں تو التواء کیوں دیں؟ ہماری عدالت میں صرف جج یا وکیل کے انتقال پر کیس ملتوی ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیس سال ڈیتھ سیل میں رہنے والے کو اگر بری کیا جائے تو وہ کیا سوچے گا؟ اگر ایسا شخص بری ہونے کے بعد ہمارے سامنے آ جائے تو فائل اٹھا کر ہمارے منہ پر مارے، قصور سسٹم کا نہیں، ہمارا ہے، جو غیر ضروری التواء دیتے ہیں۔
دوران سماعت جسٹس باقر نجفی نے سوال کیا کہ کیا ذہنی بیماری کا نکتہ ٹرائل یا ہائی کورٹ میں اٹھایا گیا تھا؟ جس پر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں عدالتوں کے سامنے یہ نکتہ رکھا گیا تھا، لیکن اسے نظرانداز کیا گیا۔

مدعی کے وکیل شاہ خاور نے بھی ملزم کے وکیل کی التواء کی درخواست کی بھرپور مخالفت کی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ پہلے باضابطہ درخواست جمع کرائی جائے، پھر اس پر بحث ہوگی۔

عدالت نے فریقین کی رضا مندی سے سماعت 19 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے تمام وکلاء کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت جاری کر دی۔