ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یوکرین کے بعد روس بھی تیس روزہ جنگ بندی پر رضامند؛ عملدرآمد کے متعلق سوالات

Ukraine War, city42 , Russian Nuclear plant attacked,
کیپشن: یوکرین اور روس کی جنگ بندی بہت عجیب طریقہ سے ہو رہی ہے۔ چند ماہ پہلے روس نے امریکہ کے میزائل یوکرین کے زیر استعمال آ جانے سے پہلے ہی اپنی ایٹمی ڈوکٹرائن بند ڈالی تھی اور امریکہ کے میزائل یوکرائن مین استعمال ہونے کی سورت مین ایٹمی جنگ کی دھمکی دے دی تھی، آج یوکرین اور روس کی جنگ بندی امریکہ کروا رہا ہے۔ صدر پیوٹن کی کریملن مین اپنے آفس مین تصویر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: روس کی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین میں 30 روزہ جنگ بندی کی حمایت کر دی لیکن انہوں نے کہا، اس جنگ بندی کے عمل میں آنے کے متعلق 'سنگین سوالات' ہیں۔
 پیوٹن نے کہا، ماسکو یوکرین میں جنگ بندی کی امریکی تجویز کی حمایت کرتا ہے، لیکن اس کے "سنگین سوالات" ہیں جن پر اسے امریکہ کے ساتھ، ممکنہ طور پر براہ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ 

پوٹن  نے کہا،   وہ 30 دن کی جنگ بندی کی تجویز  پر عمل کے لیے تیار ہیں "لیکن یہ کہ اس میں باریکیاں ہیں" اور یہ کہ یہ کیسے کام کرے گی، اس کے بارے میں "سنگین سوالات" ہیں۔ "

پیوٹن نے کہا، میرے خیال میں ہمیں اپنے امریکی ساتھیوں سے بات کرنے کی ضرورت ہے... ہو سکتا ہے کہ (پیوٹن) صدر ٹرمپ سے فون پر بات کریں اور ان سے اس پر بات کریں،"  پیوٹن نے یہ باتین  جدہ میں امریکہ اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان روس یوکرین تیس روزہ جنگبندی کی تجویز پر اتفاق ہونے کے متعلق نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب مین یہ باتیں کہیں۔