ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شب معراج پر3چھٹیوں کا اعلان

شب معراج پر3چھٹیوں کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: شبِ معراج کے موقع پر کویت اور عمان میں  چھٹی کا اعلان کر دیا گیا۔  دونوں ممالک میں 18 جنوری کو سرکاری تعطیل ہوگی اور تمام سرکاری و نجی ادارے بند رہیں گے، شبِ معراج 27 رجب 1447 ہجری کی رات منائی جائے گی۔

  کویت اور عمان میں سکولوں اور کالجوں میں بھی تعطیل ہوگی، تاہم متحدہ عرب امارات میں شبِ معراج کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان نہیں کیا گیا۔

  کویت میں شبِ معراج کی مناسبت سے تین روزہ تعطیلات دی گئی ہیں  چونکہ جمعہ 16 جنوری پہلے ہی ہفتہ وار تعطیل ہے، اس لیے حکومت نے ہفتہ 17 اور اتوار 18 جنوری کو بھی چھٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اتوار کو متبادل تعطیل قرار دیا گیا ہے۔

  کویت میں سرکاری دفاتر میں معمول کا کام پیر 19 جنوری 2026 سے دوبارہ شروع ہوگا۔

یاد رہے کہ  رجب المرجب اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے، اللہ رب العزت نے تمام مہینوں کے مختلف دنوں اور راتوں کی اہمیت و فضیلت اور ان کی خاص برکات و خصوصیات بیان فرمائی ہیں، لیکن ستائیس رجب المرجب کو دین اسلام میں ایک نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہے کیونکہ اس رات اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس بلا کر اپنا دیدار کرایا تھا۔

  واقعہِ معراج :

روایات کے مطابق حضرت محمد ﷺ حضرت ام ہانی کے گھر  پرسو رہے تھے۔ جبرئیل امین علیہ السلام فرشتوں کے ساتھ آئے۔ آپ کو اٹھایا اور حطیم کعبہ لے گئے۔وہاں سے زمزم کے کنویں پر تشریف لے گئے وہاں قلب اطہر کو نکالا اور اس کو زمزم کے پانی سے دھویا اور ایمان وحکمت سے اس کو بھر دیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگادی گئی۔ پھر براق پر سوار کراکے حضورکا سفر شروع ہوا۔

 سفرِ معراج:

 شبِ معراج   پر محبوب خدا  ﷺ نے مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کرکے اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس شب حضور نبی کریم ﷺ آسمانوں سے بھجوائی گئی خصوصی سواری البراق پر سوار ہو کر خالق کائنات سے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تھے ۔

 قرآن پاک میں بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں اس واقعہ کا ذکر موجود ہے ، جو معراج یا اسراء کے نام سے مشہور ہے ، احادیث میں بھی اس واقعہ کی تفصیل ملتی ہے، شب معراج انتہائی افضل اور مبارک رات ہے کیونکہ اس رات کی نسبت معراج سے ہے ۔

 روایات کے مطابق سفرِ معراج  تین مراحل پر مشتمل تھا۔پہلے مرحلے میں سفرِ معراج کا پہلا مرحلہ مسجدُ الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا ہے، یہ زمینی سفر ہے۔

 سفرِ معراج کا دوسرا مرحلہ مسجدِ اقصیٰ سے لے کر سدرۃ ُالمنتہیٰ تک ہے، یہ کرۂ ارضی سے کہکشاؤں کے اس پار واقع نورانی دنیا تک سفر ہے۔

سفرِ معراج کا تیسرا مرحلہ سدرۃ ُالمنتہیٰ سے آگے قاب قوسین اور اس سے بھی آگے تک کا ہے،چونکہ یہ سفر محبت اور عظمت کا سفر تھا اور یہ ملاقات محب اور محبوب کی خاص ملاقات تھی لہٰذا اس رودادِ محبت کو راز میں رکھا گیا، سورۃ ُالنجم میں فقط اتنا فرمایا کہ وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو  راز اور پیار کی باتیں کرنا چاہیں وہ کرلیں۔

 تین خوبصورت تحفے:

روایات کے مطابق حضرت محمد   صلی اللہ علیہ وسلم اللہ معراج پر گئے جب واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے تین تحفے عطا فرمائے۔

 1۔ حضورِ پرنور ﷺ کو معراج کے سفر کے دوران ذاتِ باری تعالیٰ سے ملاقات میں  پانچ نمازوں کا تحفہ ملا۔ 

 2۔ سورۃ بقرہ کی آخری 3آیتیں لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْض سے لے کر أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ تک اس ملاقات میں عطا کی گئیں۔

 3۔ اس ملاقات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ کی امت میں جو بندہ شرک نہیں کرے گا اس بندے کی معافی کا میں وعدہ کرتاہوں ۔