ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیلی سپریم کورٹ کے سربراہ کا حلف، حکومت کا بائیکاٹ، صدر کی حکومت پر تنقید

City42, Isaac Amit, President Harzog , City42 , Supreme Court of Israel
کیپشن: سپریم کورٹ کے آنے والے صدر اسحاق امیت، بائیں، 13 فروری 2025 کو صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ یروشلم میں صدر کی رہائش گاہ پر ایک افتتاحی تقریب کے دوران حلف اٹھا رہے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: اسرائیل میں سپریم کورٹ کے  سینئیر موسٹ جسٹس اسحاق امیت نے سپریم کورٹ کے سربراہ کی حیثیت سے حلف لے لیا ہے۔وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت نے چیف جسٹس اسحاق امیت کے حلف لینے کی تقریب کا بائی کاٹ کیا۔ اسرائیل کے صدر  ہرزوگ نے ​​تقریب کا بائیکاٹ کرنے پر حکومت پر تنقید کی ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے بتایا ہے کہ چیف جسٹس اسحاق امیت نے یروشلم میں صدر اسحاق ہرزوگ کی رہائش گاہ پر ایک تقریب میں سپریم کورٹ کے صدر کی حیثیت سے حلف لیا۔

صدر اسحاق ہرزوگ نے ​​حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ کرنے پر حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں ریاست کی ایک شاخ کے لیے دوسری شاخ سے دور رہنے کی "کوئی جگہ" نہیں ہے۔

ایک غیر معمولی اقدام میں نیتن یاہو حکومت کے  وزیر انصاف یاریو لیون چیف جسٹس کے حلف کی تقریب کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، جبکہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور کنیسٹ سپیکر امیر اوہانا بھی غیر حاضر ہیں، اور حکومت کا ایک بھی رکن تقریب میں موجود نہیں ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ لیون نے 15 مہینوں سے زیادہ کے لیے سپریم کورٹ کے نئے صدر کی تقرری کے لیے ووٹ دینے سے انکار کر دیا۔  اس لیے کہ وہ امیت کے بجائے ایک قدامت پسند جسٹس کو صدر مقرر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں،  اسحاق امیت کی لیون نے اپنے لبرل عدالتی فیصلوں کی وجہ سے سخت مخالفت کی۔

صدر ہرزوگ کی حکومت پر سخت تنقید

امیت کے حلف اٹھانے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، صدر ہرزوگ نے ​​نیتن یاہو، لیون اور اوہانا کے حوالے سے اس حقیقت پر تنقید کی کہ "ایگزیکٹیو برانچ اور مقننہ کی قیادت" تقریب میں موجود نہیں ہے۔

"ایک جمہوری ملک میں، جہاں ریاستی اداروں کا احترام ایک رہنما روشنی ہے، وہاں حکومت کی ایک شاخ کے دوسری شاخ کے بائیکاٹ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ سیاسی یا عوامی جدوجہد میں قانون اور رواج کو تاش میں بدلنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور یقینی طور پر سپریم کورٹ کے صدر کو غیر قانونی قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو قانون اور قانون کی ہدایات کے مطابق اپنے عہدے کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

صدر ہرزوگ نے ​​یہ بھی کہا ہے کہ "تبدیلی" "جمہوریت کی دشمن نہیں ہے"، حکومت کی طرف سے عدلیہ کو تبدیل کرنے کی جاری کوششوں کے حوالے سے۔

"ہر تجویز تباہی نہیں ہے، ہر سمجھوتہ تباہی نہیں ہے، ہر ایجنڈا مخالفانہ اور زہریلا ایجنڈا نہیں ہے،" ہرزوگ حکومت کی کوششوں کے درمیان بائیں بازو کے حلقوں میں شدید مخالفت کے بارے میں کہتے ہیں۔

صدر ہرزوگ نے حکومت اور کنیست سے بھی مطالبہ کیا  کہ "حکومت کی شاخوں کے درمیان تعاون اور مکالمے کا دور شروع کیا جائے. اور ایک ایکسٹینڈڈ ہاتھ کے نئے دور ، اعتدال پسندی اور وسیع معاہدے کی تلاش کے دور کا آغاز (کیا جائے)"۔

پس منظر

اسرائیل کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اسحاق امیت کو  سپریم کورٹ کے سربراہ کے عہدہ پر فائض ہونے سے روکنے کے لئے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت نے ہر ممکن کوشش کی تھی۔ ان کوششوں کے سبب اسحاق امیت قائم مقام صدر کی حیثیت سے طویل عرصہ سے کام کر رہے تھے اور حکومت  اب بھی سپریم کورٹ کے سربراہ کے خالی عہدہ کو پر کرنے سے گریزاں تھی۔  آج  سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس اسحٰق امیت سے سولہ مہینے کے تعطل کے بعد سپریم کورٹ کے مستقل صدر کے  عہدہ پر  حلف لیا گیا۔  اسرائیل کی اتحادی حکومت کے  وزیر انصاف یاریو لیون کی شدید مخالفت کے سبب حکومت جسٹس اسحاق کا تقرر 16 ماہ تک ٹالتی رہی لیکن آخر جسٹس اسحاق ہی کو مستقل صدر مقرر کرنا پڑا۔  جوڈیشل سلیکشن کمیٹی نے جسٹس اسحاق امیت کو اسرائیل کی اعلیٰ عدالت کا سربراہ منتخب کیا۔

اسرائیل کی ہائی کورٹ نے حکم جاری کر کے پر نیتن یاہو کی حکومت  کو سپریم کورٹ کے صدر کے عہدہ پر تقرر کی ڈیڈ لائن دے دی تو حکومت نے اس ہونی کو ٹالنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی اور دسمبر مین جوڈیشل سیلیکشن کمیٹی کا بہت التوا کے بعد ہونے والا اجلاس اس وقت غیر مؤثر ہو گیا تھا جب حکومت کے وزیر انصاف نے اس اجلاس میں قانون کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی اور ججوں نے اس کی مزحمت کی تھی۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ کے سربراہ کی خالی نشسست پر کرنے کے لئے جوڈیشل سیلیکشن کمیٹی کا ایک سال کے تعطل کے بعد ہونے والا اجلاس المناک انجام سے دوچار ہو ا تھا،  اسرائیل کی سپریم کورٹ کے ججوں نے وزیر انصاف  لیون کے روایت کے برعکس اقدام کے خلاف احتجاجاً جوڈیشل سلیکشن کمیٹی سے واک آؤٹ کر دیا۔

 موجود فورم پر جسٹس اسحاق امیت کا تقرر روکنے کی کوشش مین ناکام ہو کر حکومت نے   ایک نیا ترمیمی بل پارلیمنٹ (کنیست) میں لانے کی کوشش کی تھی،  اس کوشش کے دوران حکومت کے دو وزرا کی گفتگو میڈیا میں لیک ہو گئی تھی۔ 

اس لیک گفتگو سے یہ تاثر ملتا تھا کہ نیتن یاہو کی کمزور ہوتی ہوئی حکومت سپریم کورٹ میں سربراہ کے عہدہ پر  آزاد اور لبرل جج کے تقرر سے بچنے کے لئے یہ بحث کر رہی ہے کہ شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالے یا چیتے کے منہ میں ہاتھ ڈالے۔ نیتن یاہو کی حکومت کے وزیر انصاف یاریو لیون نے عدالتوں میں تقرریوں کو کنٹرول کرنے کے لئے انتہائی متنازعہ قانون کے بل کو جلد  منظور کروانے (بلڈوز کرنے) کا عندیہ ظاہر کیا ہے جبکہ وزیر مواصلات ایک اور انتہائی متنازعہ بل کے ذریعہ  عدلیہ کو کنٹرول کرنے کےمقاصد حاصل کرنے کے حامی ہیں۔

آج جسٹس اسحاق امیت کے سپریم کورٹ کا سربراہ بن جانے سے حکومت ایک جنگ تو ہار گئی لیکن اس نے نئی جنگ اس کے ساتھ ہی چھیڑ دی، یہ چیف جسٹس اسحاق امیت کو پولیٹیسائز کرنے اور ان کو سیاسی عمل کے ذریعہ کمزور کرنے کی جنگ ہے۔