سٹی42: اسرائیل میں نیتن یاہو کے معاونوں اور قطر کے درمیان مبینہ تعلقات کی فوری تحقیقات کا مطالبہ ہو رہا ہے۔
یہ مطالبہ اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایلی فیلدسستین نے ہرائم منسٹر نیتن یاہو کے آفس میں کام کرتے ہوئے قطریوں کو تعلقات عامہ کی خدمات فراہم کی تھیں۔
اسرائیل کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر یائیو لیپد نے بدھ کے روز اٹارنی جنرل گالی بہارا میارا کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا کہ وہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی مشیروں اور قطر میں حکام کے درمیان مبینہ کاروباری تعلقات کی تحقیقات کریں۔
یہ مطالبہ منگل کو چینل 12 کی ایک رپورٹ کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کی میڈیا ٹیم کے ایک رکن ایلی فیلڈسٹائن جو اس وقت ایک جرمن اخبار کو خفیہ دستاویزات لیک کرنے کے الزام میں گھر میں نظر بند ہیں، نے PMO میں کام کرتے ہوئے قطریوں کو تعلقات عامہ کی خدمات فراہم کی تھیں۔
منگل کو سامنے آنے والی اسرائیل کے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، یرغمالی مذاکرات میں اس کے کردار کی بنیاد پر اسرائیل میں قطر کے امیج کو فروغ دینے کے لیے فیلڈسٹائن کو قطر کی طرف سے فنڈز فراہم کرنے والی ایک بین الاقوامی کمپنی کی خدمات حاصل تھیں۔
فیلڈسٹائین نے مبینہ طور پر عین اسی وقت کمپنی کی جانب سے کام کیا جب وہ وزیراعظم کے دفتر میں کام کرتے تھے۔ چینل 12 کے مطابق، ایلی فیلدستین نے نامہ نگاروں کو یہ غلط تاثر دیا کہ قطر پر اس کا پیغام اسرائیل کے ایک سرکاری ذریعہ سے تھا۔
قطر کے ساتھ مشتبہ تعلقات
پروشلم پوسٹ نے اس موضوع پر اپنی سٹوری میں بتایا کہ چینل 12 کی حالیہ رپورٹ اس سے پہلے نومبر (2024) کے آخر میں ہاآریتز کی ایک گزشتہ رپورٹ میں مزید اضافہ ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی میڈیا ٹیم کے دو دیگر ارکان یوناٹن اریش اور سرولک اینہورن نے 2022 کے(فیفا فٹ بال) ورلڈ کپ سے قبل قطر کو تعلقات عامہ کی خدمات فراہم کیں۔ اریش اور اینہورن بھی فیلڈسٹائن کیس میں ملوث تھے - اریش سے اسرائیل کی پولیس نے اس کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کی ہے، اور ائبہورن جو اس وقت یورپ میں رہ رہا ہے، تفتیش کے لیے مطلوب ہے۔
اپوزیشن لیڈر یائیو لیپد نے لکھا، "وزیراعظم کے مشیروں اور قطری حکومت کے درمیان کاروباری رابطے کی سنگین اطلاعات کے بعد، یہ شبہ ہے کہ ملک کے سب سے حساس دفتر میں کام کرتے ہوئے، وہ قطر کے امیج کو بہتر بنانے میں مصروف تھے، ایک ایسی ریاست جو دہشت گردی کی حمایت کرتی ہے اور اس وقت یرغمالیوں کے معاہدے میں ثالثی کر رہی ہے۔"
لیپد نے مزید کہا، "مجھے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ دنیا میں ریاست اسرائیل کے عوامی تعلقات اور نیک نامی سے نمٹنے کے بجائے، انہوں نے قطر کے لیے پبلک ریلیشننگ کے ذریعے پیسہ کمانے کا وقت تلاش کیا۔ اس لیے ان دنوں اس معاملے کی پیشہ ورانہ اور مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اگر یہ پتہ چلتا ہے کہ رپورٹس درست ہیں تو یہ نہ صرف مفادات کا واضح تصادم ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی واضح نقصان پہنچا ہے۔
لیپد نے ریاست کے اٹارنی امیت ایزمان اور شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو بھی اس سلسلہ میں خط لکھا ہے۔
ڈیموکریٹس کے چیئرمین یائیو گولن نے بھی اس سکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بدھ کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں گولن نے لکھا، ’’ان چونکا دینے والے شکوک و شبہات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم کے قریبی مشیروں نے قطری کمپنیوں سے رقوم وصول کیں– ایک ایسا ملک جو حماس کو فنڈز فراہم کرتا ہے۔ الجزیرہ کی اکسانے والی مشین کو چلاتا ہے، اور انتہا پسند وہابی تنظیموں کے نظریاتی اور مالیاتی اڈے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ کوئی معمولی تفصیل نہیں ہے - یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو نیتن یاہو کے اپنے فیصلے اور اس سے بھی بدتر، اس کے اور اسرائیل سے دشمنی رکھنے والے عناصر کے درمیان ممکنہ روابط کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔"
گولن نے مزید کہا، "اس معاملے کی آخری ڈالر تک اچھی طرح سے چھان بین ہونی چاہیے۔ ہر منی ٹریل، ہر کنٹریکٹ، ہر میٹنگ – اسرائیلی عوام کو سچ جاننا چاہیے۔ کیا قومی سلامتی کے اہم ترین فیصلے صاف ستھرے طریقہ سے کیے جا رہے ہیں؟ کیا غزہ میں [جنگ] کے اگلے دن کے حوالے سے یرغمالیوں کی رہائی کا عمل اور پالیسی ناقابل تصور، غیر ملکی خیالات سے متاثر ہو رہی ہے؟ "
اسرائیل میں موومنٹ فار کوالٹی گورنمنٹ نے بدھ کو بھی شن بیٹ کے سربراہ کو ایک خط لکھا۔