سٹی42: ضلعی عدلیہ کے ججوں نے آج شب اسلام آباد ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں ترقی پانے والے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل اورنگزیب کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے اعزاز میں عشائیہ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججز نے شرکت کی۔
سینیارٹی کے معاملے پرپریزنٹیشن بھجوانے والے 5 جج ساتھی ججوں کے لئے اس الوداعی عشائیے میں شریک نہیں ہوئے۔
دروازے ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے لئے وا رہیں گے، قائم مقام سی جے اسلام آباد ہائی کورٹ
عشائیہ میں شریک اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مسٹر جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے لیے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے، آپ کبھی کسی بھی مسئلے کےلیے میرے پاس آ سکتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی عدلیہ کے 90 فیصد فیصلے برقرار رکھے
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےعشائیے سے خطاب میں کہا کہ ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کے 90 فیصد فیصلے ہائیکورٹ میں برقرار رہے، ضلعی عدلیہ کے ججز اچھا کام کر رہے ہیں، جیسے جسٹس ڈوگر نے کہا میرے دروازے بھی ہمیشہ آپ کے لیے کھلے رہیں گے۔
ضلعی عدلیہ انصاف کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی
اسلام آباد ہائیکورٹ سے آج سبکدوش ہو جانے والے چیف جسٹس عامر فاروق نے عشائیہ سے خطاب میں کہا کہ ضلعی عدلیہ انصاف کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، ضلعی عدلیہ سے بھی اس مرتبہ ایک جج کو ہائیکورٹ کا جج بنایا گیا، اس سال اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری نے ریکارڈ کیسز نمٹائے، مجھے آپ کے کام پر فخر ہے۔
جن ججز کی ترقی ہوئی ان کو مبارکباد، جن کی ترقی نہیں ہوئی وہ بھی مایوس نہ ہوں، آپ بہترین کام کر رہے ہیں، آپ کا وقت بھی آئے گا، ہم ججز سائلین کو قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے لیے کام کر رہے ہیں، میں اس سفر میں سپریم کورٹ جا رہا ہوں مگر آپ لوگ میرے دل میں ہیں، میرے دروازے بھی ہمیشہ آپ کے لیے کھلے رہیں گے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصر جاوید رانا نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کو شیلڈ پیش کی۔