سٹی42: اسرائیل میں دو دن کے دوران حماس کی قید میں موجود دو یرغمالیوں کی فیملیز نے بتایا ہے کہ انہیں اپنے یرغمالی عزیزوں کے زندہ ہونے کے آثار ملے ہیں۔
کل 11 فروری کو حماس کی قیمد مین موجود یرغمالی عمری میران کے اہل خانہ نے بتایا کہ انہیں عمری کے زندہ ہونے کی نشانی ملی ہے۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران حماس کے یرغمالیوں میں سے کچھ کے قید مین ہی مر جانے کی اطلاعات کے ساتھ یہ تصدیق نہیں ہو رہی کہ کون لوگ مارے جا چکے ہیں، اس کنفیژن کی وجہ سے جو یرغمالی اب تک واپس نہین آئے ان کے اہل خانہ مسلسل پریشان ہیں کہ کیا وہ زندہ ہیں یا نہیں۔
حماس کے یرغمال 46 سالہ عمری میران کے گومگو کی کیفیت سے دوچار اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر حال ہی میں غزہ سے رہا ہونے والے یرغمالی کے ذریعے ان کی طرف سے زندگی کا نشان ملا ہے۔
عمری کے بھائیوں بوعز اور نداو میران کنے بتایا کہ حماس کی قید سے واپس آ چکے ایک یرغمال نے انہیں بتایا کہ وہ جولائی 2024 تک عمری کے ساتھ قید تھے اور اس وقت وہ جسمانی طور پر بالکل ٹھیک لگ رہے تھے۔ تاہم، دونوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے بھائی کی حالت سات ماہ گزر جانے کے بعد سے ابتر ہو سکتی ہے۔
میران کو 7 اکتوبر 2023 کو کبتز نہال عوز سے دہشت گردوں نے یرغمال بنا لیا تھا اور اسے اس کی ہی کار میں لے کر سرحد پار چلے گئے تھے۔ ان کی اہلیہ لیشے میران اپنی دو بیٹیاں 2 سالہ رونی اور 6 ماہ کی الما کے ساتھ پیچھے رہ گئی تھیں۔
آج 12 فروری کو ہانا مسترونوف، جس کا بھتیجا یوسف ہیم اوہانا غزہ میں یرغمال بنا ہوا ہے، انہوں نے نیوز آؤٹ لیٹ وائی نیٹ Ynet کو بتایا کہ خاندان کو "واضح اشارہ" ملا ہے کہ یوسف زندہ ہے۔
ہانا مستونوف نے یوسف کی صحت کے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "جب ہم نے ان لوگوں کو دیکھا جو اس ہفتہ کے روز واپس آئے، تو اس نے ہمیں اس سے بھی زیادہ توڑ دیا جتنا ہم پہلے سے ٹوٹ چکے تھے۔ اسی لیے ہم نے میڈیا سے بات کرنے کا انتخاب کیا،‘‘ ماسترونوف نے تازہ ترین آزاد کیے گئے یرغمالیوں کی خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے Ynet کو بتایا۔
حالیہ دنوں میں، یرغمالیوں کے کئی خاندانوں نے کہا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں سے زندگی کے آثار ملے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اطلاعات غزہ سے جاری جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا ہونے والے یرغمالیوں سے ملاقاتوں کے بعد یرغمالیوں کے اہل خانہ کے سامنے آئی ہیں۔
نئے خدشات، نئی تشویش
دو دن پہلے دس فروری کو حماس کی جانب سے آئندہ ہفتے کے روز مزید یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار اور اس کے جواب مین اسرائیل کی وار کیبنٹ اور وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی ختم کر کے غزہ میں شدید ردعمل دینے کے عندیہ سے اسرائیل میں یرغمالیوں کے لواحقین میں نئے خدشات اور پہلے سے زیادہ تشویش نے جنم لیا ہے۔
حماس یرغمالیوں کی رہائی روک کر اسرائیل کی حکومت کو دوحہ جنگ بندی معاہدہ پر اپنی مرضی کے مطابق عمل کروانا چاہتی ہے اور اسرائیل کی حکومت نے مذاکرات کی ٹیبل پر صورتحال سے قطع نظر پبلک میں یہ بیان دیا ہے کہ اگر دو دن بعد ہفتہ کے روز ہوسٹیجز ڈیل کے پہلے مرحلہ کے کم از کم 9 زندہ یرغمالی رہا نہ کئے تو آئی ڈی ایف غزہ میں شدید جنگ کرے گی۔
نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد آج بدھ کے روز دوحہ اور قاہرہ سے ثالثوں کے حوالے سے کوئی امید افزا خبر سامنے نہیں آئی۔