علی رامے: پنجاب حکومت نے انتظامی اخراجات میں کمی کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے صوبائی محکموں اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں 101 آسامیاں ختم کردی ہیں۔ حکومتی منظوری کے بعد ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف مرکزی انتظامی محکموں میں سکول ایجوکیشن، خزانہ، صحت و آبادی اور داخلہ کی 5، 5 آسامیاں ختم کی گئی ہیں، جبکہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی بھی 5 آسامیاں ختم کردی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ آفس پنجاب میں سیکشن افسران کی 3، لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی 3 آسامیاں ختم کی گئی ہیں۔ محکمہ زراعت، مواصلات و تعمیرات، توانائی، ایکسائز، فوڈ سیفٹی اور ہائر ایجوکیشن کی 2، 2 آسامیاں ختم کردی گئیں۔
اسی طرح ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی بھی 2، 2 آسامیاں ختم کی گئی ہیں۔ انوائرمنٹ پروٹیکشن، انڈسٹریز، انفارمیشن اینڈ کلچر، لٹریسی، لائیوسٹاک، مائنز اینڈ منرلز، پبلک پراسیکیوشن، سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال اور ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک، ایک آسامی ختم کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں بھی متعدد آسامیاں ختم کردی گئی ہیں۔ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کی 8، فنانس اور ہائر ایجوکیشن کی 4، 4 جبکہ سکول ایجوکیشن کی 4 آسامیاں ختم کی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے آبپاشی اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی 3، 3، جبکہ زراعت، سی اینڈ ڈبلیو اور جنگلات کی 2، 2 آسامیاں ختم کی گئی ہیں۔ لائیوسٹاک، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ایس اینڈ جی اے ڈی کی 2، 2 جبکہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی بھی 2 آسامیاں ختم کردی گئیں۔
اس کے علاوہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے ہوم اور ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی ایک، ایک آسامی بھی ختم کردی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ کے 31 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ متعلقہ محکموں کو فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے مزید ضروری کارروائی کی ہدایت کردی گئی ہے۔