اشرف خان: پیٹرولیم ڈیلرز اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہفتہ کی صبح ہڑتال کے فیصلے پر بدستور قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ روز پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد اور وزارتِ پیٹرولیم کے درمیان مذاکرات تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہے، تاہم بات چیت کے دوران ماحول کشیدہ رہا، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ڈیلرز کی جانب سے دیے گئے 72 گھنٹے کے الٹی میٹم پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
مذاکرات میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ رد و بدل کے نظام میں تبدیلی سے انکار کردیا تاہم حکومت نے ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپے 34 پیسے اضافے کے معاملے پر بات کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے مشروط ہوگی۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم کے رویے پر پیٹرولیم ڈیلرز کے وفد نے مذاکرات ختم کرکے فوری طور پر کراچی واپس روانہ ہونے کا فیصلہ کیا، وفد کے چیئرمین ملک خدا بخش کی قیادت میں کراچی روانگی کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔
وفد میں وائس چیئرمین طارق حسن، وائس چیئرمین انور کمال، سندھ کے صدر امیر خان، پنجاب سے نائب چیئرمین راجہ وسیم، چوہدری باہر اور خواجہ کاشف الٰہی، جبکہ خیبر پختونخوا سے عبد الماجد خان سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔
پیٹرولیم ڈیلرز نے کراچی میں اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق ہفتہ کی صبح ہڑتال کرنے کے فیصلے میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔