لیسکو کو بجلی چوروں سے واجبات اور بلز کی وصولیوں کی مد میں 1 ارب 35 کروڑ روپے کا خسارہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ دو سال کے دوران 26 ہزار سے زائد بجلی چوروں کے خلاف مقدمات تو درج کروائے، مگر ان سے واجبات کی ریکوری ممکن نہیں بنائی جا سکی۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیسکو نے بجلی چوروں کے خلاف الزامات کو ثابت کر کے بھی واجبات کی وصولی یقینی نہیں بنائی۔ رپورٹ کے مطابق بجلی چوری کے مختلف طریقے استعمال کیے گئے جن میں ڈائریکٹ سپلائی، میٹر ٹمپرنگ اور دیگر ہتھکنڈے شامل ہیں۔
یہ رپورٹ لیسکو کی مانیٹرنگ اینڈ ٹیسٹنگ (ایم اینڈ ٹی) اور سرویلنس اینڈ انوسٹی گیشن (ایس اینڈ آئی) کے ریکارڈ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بجلی چوری کی روک تھام اور مالی نقصانات کی تلافی کے لیے کمپنی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔