سٹی42: لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا ہے کہ جب بھی ملک درست راہ پر گامزن ہوتا ہے، انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ کوئی پرتشدد کارروائی اب برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈی آئی جی آپریشنزفیصل کامران نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی جن لوگوں کانام لے کر سڑکوں پر آئی ہے وہاں امن قائم ہو چکا ہے، لوگ خوشیاں منا رہے ہیں اور یہ لوگ یہاں توڑ پھوڑ اور انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنزفیصل کامران نے کہا کہ اِن پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے کئی پولیس افسر اور اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ایل ڈبلیو ایم سی، واسا، ریسکیو 1122، پولیس کی گاڑیاں، پولیس کے تھانے، تمام سرکاری املاک اور جو راستے میں آئیں انہیں نقصان پہنچایا گیا۔
فیصل کامران نے کہا کہ اُن کے پاس فون کالز کا ریکارڈ موجود ہے جس میں شہری یہ شکایت کر رہے ہیں کہ اس احتجاج کی آڑ میں اُن کی گاڑی چھین لی گئی، یا اُن کی گاڑی کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا ۔
انہوں نے ٹی ایل پی کی توڑ پھوڑ کے گزشتہ واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہجب بھی یہ لوگ سڑکوں پر آئے، آپ نے دیکھا ہے کہ ہر بار اس جماعت کی وجہ سے عام شہری کی زندگی متاثر ہوئی۔ یہ لوگ احتجاج کی آڑ میں راستے بند کر دیتے ہیں، کنٹینرز لگا کر اپنے ارد گرد حصار بناتے ہیں۔ یہ لوگ ٹائر جلا کر، شیشے توڑ کر اور املاک کو نقصان پہنچا کر اپنے ارد گرد قلعہ بناتے ہیں۔ ان تمام کارروائیوں میں نقصان عام شہری کا ہوتا ہے۔ کسی نے ہسپتال جانا ہوتا ہے، کسی نے کام پر، بچوں نے اسکول جانا ہوتا ہے، سب لوگوں کی زندگیاں ان کی وجہ سے اجیرن ہو جاتی ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنزنے کہا کہ پولیس تھانوں پر حملہ کیا گیا۔ شاہدرہ ٹاؤن میں تمام چیزیں توڑی گئیں، تصاویر اور تمام ثبوت موجود ہیں۔ اورنج لائن سٹیشن پر چڑھ کر فتح کا جشن منایا گیا، اسے توڑ پھوڑ کر نقصان پہنچایا گیا جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو ، جیسے کوئی جنگ جیتی گئی ہو۔
فیصل کامران نے کہا، ملک کے اندر انہوں نے غیر یقینی صورتحال اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سارے معاملے کو پولیس اور دوسرے ریاستی ادارے مل کر سنبھال رہے ہیں۔ فرنٹ لائن فورس پولیس ہوتی ہے، اندرونی سیکیورٹی کے لیے تمام ریاستی ادارے ہمارے ساتھ ہیں اور ہماری مدد کر رہے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا، یہ کیسا احتجاج ہے۔ جس نعرے اور جھنڈے کے نیچے یہ جمع ہوتے ہیں، کیا وہ نعرہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایسی پرتشدد کارروائیاں کریں۔ اس نعرے کی تعلیمات ہرگز ایسی نہیں ہیں۔ پولیس اور تمام ریاستی ادارے پاکستان کے مفاد اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اپنا کام کرتے رہیں گے۔
فیصل کامران کا کہنا تھا کہ تمام معاملات اچھے طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔ جہاں بات چیت ممکن ہے، ہم ہر وقت تیار ہیں۔ لیکن جہاں کوئی گروہ لوگوں کو نقصان پہنچائے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے، عام شہری کو تنگ کرے، راستے بند کرے، وہاں ریاست اس سے اچھی طرح نمٹنے کے لیے بالکل تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کئی پولیس اہلکار ابھی تک ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، اس کے علاوہ کئی اہلکار لاپتا ہیں جن کا ابھی پتہ نہیں چل سکا۔ اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ ان کے پاس ہیں۔ انہی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ان اہلکاروں کی تصاویر موجود ہیں، جنہیں وہ لے کر جا رہے ہیں اور زخمیوں کو بھی انہوں نے وہاں بٹھایا ہوا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنزنے کہا کہ راستے میں جو تھانے آئے اُن کے شیشے توڑے گئے، شاہدرہ ٹاؤن تھانے کو مکمل طور پر وینڈلائز کیا گیا۔ اس کے اندر موجود تمام اشیاء توڑ دی گئیں، کیمرے بھی توڑ دیے گئے۔ اس کی تمام تصاویر ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ راستے میں جو سرکاری املاک تھیں، انہیں بھی نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تین گاڑیاں ایسی ہیں جن میں سے ایک ایس ایس پی کی گاڑی جلادی گئی، جب کہ دو تین گاڑیوں کی تصاویر ان کے سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں اور ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ ان گاڑیوں میں یہ جتھے پولیس کی موبائلوں میں پھر رہے تھے۔ یہ عام آدمی کی سہولت کے لیے گاڑیاں تھیں، سرکاری املاک تھیں جن سے عوام کو فائدہ پہنچنا تھا۔
فیصل کامران نے کہا کہ کئی گاڑیاں ایسی ہیں جن میں ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑیاں اور "ستھرا پنجاب" کے کنٹینر شامل ہیں، جنہیں یہ اپنے ساتھ لے کر چل رہے تھے۔ ہر محکمے کی جو چیز ان کے ہاتھ آتی ہے، اسے تباہ کر دیتے ہیں۔ جہاں جہاں ان کے شرانگیزی پھیلانے والے لوگ ہیں، ہم نے انہیں گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے پاس ان کے 100 سے زیادہ افراد گرفتار ہیں۔ جس طرح یہ لاہور، بادشاہی مسجد، شیخوپورہ اور آگے جی ٹی روڈ کے راستے احتجاج کا پلان بنا رہے تھے، وہ سب ہمارے علم میں ہے۔ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ احتجاج دراصل ایک "نان ایشو" تھا۔
ڈی آئی جی نے بتایا، یہ لوگ گاڑیاں چھین رہے ہیں، موٹر سائیکلیں چھین رہے ہیں۔ شاہدرہ ٹاؤن تھانے کے اندر جو پولیس والے ڈیوٹی پر تھے، ان کی موٹر سائیکلیں باہر کھڑی تھیں، وہ بھی چھین کر لے گئے۔ 18 موٹر سائیکلیں وہاں سے لے جائی گئیں۔ باقاعدہ ڈکیتیوں کا ایک سلسلہ بھی ساتھ ساتھ شروع کیا گیا۔
فیصل کامران نے کہا کہ ان کو سیف سٹی کیمروں سے ٹریس کیا جا رہا ہے۔ ہم ان کے پیچھے جائیں گے اور انہیں قانون کے دائرے میں لا کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ اس مرتبہ جس طرح کا کریک ڈاؤن ہو رہا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ریاست نے یہ راستہ واضح کر دیا ہے کہ اس طرح کی کوئی پرتشدد کارروائی اب برداشت نہیں کی جائے گی۔