سٹی42: غزہ کی پٹی میں 19 ماہ سے زائد عرصے سے یرغمال بنائے گئے ایک اسرائیلی نژاد امریکی فوجی کو پیر کے روز رہا کرنے کے عمل کو حماس نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف جذبہ خیر سگالی کا اظہار قرار دیا ہے جو اسرائیل کے ساتھ نئی جنگ بندی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے متوقع رہائی کو 'امید کے ساتھ' جنگ کے خاتمے کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے۔
یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم کی جانب سے جاری کی گئی اس نامعلوم تصویر میں اسرائیلی نژاد امریکی فوجی ایڈن الیگزینڈر کو دکھایا گیا ہے۔ (یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کا فورم بذریعہ اے پی)
یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم کی جانب سے جاری کی گئی اس نامعلوم تصویر میں اسرائیلی نژاد امریکی فوجی ایڈن الیگزینڈر کو دکھایا گیا ہے۔ (یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کا فورم بذریعہ اے پی)
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ ایڈان الیگزینڈر کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اسے اسرائیلی افواج کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایڈن الیگزیندر کے نام سے مزین قمیضیں پہنے ہوئے، الیگزینڈر کے خٓاندان کے لوگ اس کی رہائی دیکھنے کے لیے تل ابیب میں جمع ہوئے ہیں جہاں بہت سے یرغمالیوں کے گھر والے بھی جمع ہیں۔ جب اسرائیلی فوج نے رسمی اعلان کیا تو کہ وہ آزاد ہو چکا ہے تو انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اس کے نام کا نعرہ لگایا۔ اس کی دادی، وردا بین بارچ، بیم بھی. تل ابیب کے یرغمالی چوک میں سینکڑوں افراد نکے ساتھ خوشی کا اظہار کر رہی تھی۔
الیگزینڈر 19 سال کا تھا جب اسے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے سرحد پار حملے کے دوران جنوبی اسرائیل میں اس کے فوجی اڈے سے لے جایا گیا، جس سے غزہ میں جنگ شروع ہوئی۔ مارچ میں اسرائیل نے حماس کے ساتھ آٹھ ہفتے کی جنگ بندی کو توڑنے کے بعد پہلی مرتبہ ان کی رہائی تھی، جس نے غزہ پر شدید حملے کیے جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ایگزینڈر کی رہائی کو جنگ کے خاتمہ کی علامت قرار دیا ہے لیکن اسرائیل کی حکومت ایسا نہیں سوچ رہی۔ وہ باقی 23 زندہ یرغمالیوں کی رہائی کے لئے اپنی جارحیت کو تیز کرنے کا عزم ظاہر کر رہی ہے جس میں غزہ کے علاقے پر قبضہ کرنا اور اس کی زیادہ تر آبادی کو دوبارہ بے گھر کرنا شامل ہے
جنگ بندی کے ختم ہونے سکے کئی دن بعد مذاکرات کے عمل سے مایوس ہو کر ، اسرائیل نے تمام درآمدات کو فلسطینی انکلیو میں داخل ہونے سے روک دیا، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا اور ناکہ بندی ختم نہ ہونے کی صورت میں قحط کے خطرے کے بارے میں انتباہات کو جنم دیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد حماس پر اسرائیل کی شرائط پر جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ 58 یرغمالی قید میں ہیں جن میں سے تقریباً 23 زندہ ہیں۔ 2023 کے حملے میں حماس کے زیرقیادت عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 250 میں سے بہت سے جنگ بندی کے معاہدوں میں رہا کر دیے گئے۔
ٹیلی ویژن فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ الیگزینڈر کی والدہ، یائل الیگزینڈر، جنوبی اسرائیل کے ریم فوجی اڈے پر پہنچ رہی ہیں، جہاں اس کے بیٹے کو پہلے لے جانے کی توقع تھی۔
ٹرمپ نے متوقع رہائی کو 'امید کے ساتھ' جنگ کے خاتمے کی طرف ایک قدم قرار دیا۔