ریڈ کراس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے پاس ایڈن الیگزینڈر ہپہنچ چکاے، جسے اب اسرائیلی فوجیوں کے پاس لایا جا رہا ہے۔ حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے اندر گھس کر جن لوگوں کو اغوا کیا تھا ان مین سے ایک یہ امریکی اسرائیلی شہری ایڈن الیگزینڈر بھی ہیں جن کو حماس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے سے پہلے ہی رہا کر دیا ہے۔
ابھی کچھ دیر پہلے یروشلیم سے اسرائیل کی ڈیفینس فورس نے کنفرم کیا ہے کہ حماس نے ایڈن الیگزینڈر کو انٹرنیشنل ریڈ کراس کے حوالے کر دیا ہے۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ریڈ کراس نے فوج کو مطلع کیا ہے کہ یرغمال فوجی ایڈان الیگزینڈر کو حماس نے جنوبی غزہ کے خان یونس میں اس کے حوالے کیا ہے۔
فوج کا مزید کہنا ہے کہ ریڈ کراس اب الیگزینڈر کو غزہ کے اندر آئی ڈی ایف کے خصوصی دستوں کے پاس لا رہا ہے تاکہ اسے پٹی سے باہر لے جایا جا سکے۔
الیگزینڈر کو حماس نے بغیر کسی عوامی تقریب کے رہا کیا ہے۔ 42 روزہ جنگ بندی کے دوران حماس نے تمام یرغمالیوں کو اونچے سٹیج بناکر ان کی شرم ناک طریقہ سے نمائش کر کے ریڈ کراس کے ھوالے کیا تھا جس سے اسرائیل میں اشتعال پھیلا اور غزہ کو حماس سے پاک کرنے تک جنگ جاری رکھنے کے حامیوں کو تقویت ملی تھی۔
اسرائیل کے 59 زندہ اور مردہ یرغمالی اس ایک یرغمالی کی رہائی سے پہلے حماس کی زیر زمین سرنگوں مین قید تھے۔ ان قیدیوں کی رہائی سے انکار نے غزہ میں جنگ بندی تڑوائی اور اب دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع ہونے کے سبب لاکھوں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اندازہ ہے کہ ایڈن الیگنڈر کی رہائی کے بعد مزید 23 یرغمالی زندہ حالت مین حماس ک یقید مین ہیں۔ ان یرغمالیوں کی رہائی کے لئے مصر کی حالیہ ثالثی کا نتیجہ صفر رہا ہے۔