ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بابر اعظم کی ایڈیشنل سیشن جج کی اندارج مقدمہ کے خلاف درخواست منظور

بابر اعظم کی ایڈیشنل سیشن جج کی اندارج مقدمہ کے خلاف درخواست منظور
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم بابر اعظم کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات پر مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔  عدالت عالیہ نے کرکٹر بابر اعظم کی جسٹس آف پیس کے اندراج مقدمہ کی درخواست منظور کرلی .

جسٹس  اسجد جاوید گھرال نے  کرکٹر بابر اعظم کی درخواست پر سماعت کی ، کرکٹر بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون حمیزہ  مختار اس سے قبل بھی 2018 میں کرکٹر  بابر اعظم کے خلاف اسی نوعیت کی بے بنیاد درخواست دائر کر چکی ہیں۔ جو پہلے واپس لےلی گئی تھی ، بابر اعظم کو 2018 سے 2020 کے دوران کرکٹ کے میدان میں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی، جس کے بعد خاتون کی جانب سے انہیں 15 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا گیا۔ بیرسٹر حارث عظمت کے مطابق خاتون نے الزام لگایا کہ بابر اعظم نے شادی کا جھانسہ دے کر انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا، اور نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ اگر 15 کروڑ روپے ادا نہ کیے گئے تو دوبارہ کیس دائر کیا جائے گا۔

بیرسٹر حارث عظمت کے مطابق بابر اعظم کی جانب سے مطالبہ مسترد کیے جانے کے بعد خاتون نے دوبارہ جسٹس آف پیس کے پاس اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی، جس پر ایڈیشنل سیشن جج، جسٹس آف پیس نے بابر اعظم کے خلاف ایف آئی اے اور پولیس کو  ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ حکم قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل  زاہد عزیز بھٹہ جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  خالدہ پروین پیش ہوئیں۔ سرکاری وکلاء اور درخواست گزار خاتون کے وکیل نے بابر اعظم کی درخواست کی مخالفت کی۔
تاہم عدالت کو مطمئن نہ کیا جا سکا، جس پر لاہور ہائیکورٹ نے بابر اعظم کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج، جسٹس آف پیس کا اندراج مقدمہ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

Ansa Awais

Content Writer