ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل نے حزب اللہ کی میزائل فورس کے سینئیر لیڈر کو ہلاک کر دیا

Hezbollah Israel conflict, City42, Hezbollah senior leader killed,
کیپشن: File Photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: اسرائیل نے منگل کو کہا کہ اس نے  اسرائیل پر ڈرون اور میزائلوں کے حملوں کے ذمہ دار حزب اللہ کے ایک سینئر دہشتگرد کو ہلاک کر دیا، حزب اللہ نے اس حملے پر ابھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ 

لبنان  میں جنگ بندی کے باوجود، اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹارگٹس پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروپ کو اپنی شمالی سرحد کے ساتھ دوبارہ مسلح ہونے یا دوبارہ موجودگی قائم کرنے سے روکنے کے لیے یہ حملے ضروری ہیں۔

اسرائیل کی فوج نے منگل کے روز  ایک بیان میں کہا، "آج   آئی اے ایف (ایئر فورس) نے جنوبی لبنان میں نباتیہ کے علاقے میں ایک  انٹیلی جنس بیسڈ حملہ کیا، جس میں بدر علاقائی یونٹ میں حزب اللہ کی فضائی فورس کے سربراہ حسن عباس عز الدین کو ہلاک کر دیا گیا۔"

آئی ڈی ایف نے مزید بتایا کہ  اس نے فرون کے علاقے میں منگل کو دوسرا حملہ کیا، جس میں حزب اللہ کے متعدد  دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا۔

فوج نے کہا کہ "جنوبی لبنان میں فرون کے علاقے میں حزب اللہ کے زیر استعمال ایک اڈے پر کئی دہشت گردوں کی شناخت کی گئی۔" "آئی اے ایف کے ایک طیارے نے مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا۔"

لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی حملوں میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ "دیر الزہرانی روڈ پر ایک کار کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔"

بعد میں بتایا گیا کہ فرون کے علاقے میں ایک گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے میں دوسرا شخص مارا گیا۔

اگرچہ 27 نومبر کو ہونے والی جنگ بندی نے بڑی حد تک ایک سال سے زیادہ کی جنگ کا خاتمہ کر دیا – اس جنگ کے پہلے دس ماہ تک صرف حزب اللہ نے ہی اسرائیل پر زیادہ تر حملے کئے جو  روزانہ  فائر کئے جانے والے درجنوں اور بعض اوقات سینکڑوں راکٹوں کے بیرج پو مبنی ہوتے تھے، اس کے ساتھ حزب اللہ نے ڈرون خودکش حملے بھی جاری رکھے جن میں دھماکہ خیز مواد ڈرونز پر لاد کر بھیجا جاتا تھا اور اسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ آپریٹ کر کے آبادیوں تک بھیجا جاتا تھا۔ بعد ازاں اسرائیل نے لبنان مین بڑے پیمانہپر فضائی حملے کئے اور جنوبی لبنان مین فوج بھی بھیج دی۔ دو ماہ کی مکمل جنگ   میں اسرائیلی زمینی دستوں نے  جونبی لبنان مین حزب اللہ کے تقریباً تمام ٹھکانوں کا صفایا کر دیا تاہم جنگ بندی کے بعد اس سرحدی علاقہ مین واپس آنے والے حزب اللہ کے کارکنوں پر اب بھی اسرائیل نے وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہیں۔

جنوری کی ڈیڈ لائن سے محروم ہونے کے بعد اسرائیل کو ابتدائی طور پر 18 فروری تک لبنان سے انخلا کی توقع تھی لیکن اس نے پانچ سٹریٹیجک مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھی ہہوئی ہے۔

جنگ بندی کے معاہدہ کے مطابق  حزب اللہ کو سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر (20 میل) کے فاصلے پر دریائے لیتانی کے شمال کی طرف پیچھے ہٹنے اور جنوبی لبنان میں باقی ماندہ فوجی انفراسٹرکچر کو ختم کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔