وقاص عظیم :وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے ہوگا۔ قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کی جائے گی، دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے رکھے جائیں گے۔بجٹ میں برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں سابق فاٹا کا ٹیکس استثنا ختم کیے جانے کا امکان ہے۔بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا گیا ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نئے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔ وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو بجٹ پر بریفنگ دیں گے۔
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم تقریباً 17 ہزار 500 ارب روپے کے لگ بھگ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے,سود کی ادائیگیوں کے لیے7 ہزار 800 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے،دفاعی بجٹ 2 ہزار 900 ارب سے 3 ہزار ارب روپے کے درمیان ہوسکتا ہے،وفاقی بجٹ میں سبسڈیز کے لیے 1100 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ کی مد میں ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے،پینشن کی مد میں 1100 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز دی گئی،حکومتی امور چلانے کے لیے 900 ارب روپے کا بجٹ مختص کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے،صوبوں کو 8 ہزار ارب روپے سے زائدمنتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال ہنگامی اخراجات کے لیے350 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی،ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی گئی،نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار ارب روپے سے زائد مقرر کرنےکی تجویز پیش کی گئی،وفاق کی خالص آمدنی کا تخمینہ 11 ہزار ارب روہے سے زائد ہوسکتا ہے۔
براہ راست ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7400 ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی،سیلزٹیکس کا ہدف 4700 ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی،کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1650 ارب روپے کی وصولیوں کاہدف رکھنے کی تجویز،ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی وصولیوں کا ہدف تجویز پیش کی گئی
آئندہ مالی سال کا مجموعی بجٹ خسارہ 3 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہوسکتا ہے،صوبائی سرپلس کونکال کر وفاقی حکومت کابجٹ خسارہ ساڑھے5 ہزارارب روپے سے زیادہ ہوسکتا ہے۔