ویب ڈیسک :مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خام تیل کی سپلائی میں کمی کے باعث بھارت نے ڈیزل کی فروخت پر 90 دن کے لیے پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کے سرکاری ایندھن فراہم کرنے والے ادارے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے توانائی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت نے پٹرول پمپ ڈیلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک صارف یا گاڑی کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 200 لیٹر ڈیزل فروخت کریں، جبکہ تجارتی صارفین کو عام ریٹیل پمپس سے ایندھن خریدنے سے روک دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافے اور سپلائی میں کمی کے باعث حکومتی سطح پر ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ایندھن کی دستیابی کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں، اور بھارت کا یہ فیصلہ اسی عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں صورتحال مزید خراب ہوئی تو نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ایشیائی ممالک بھی ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر سکتے ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں وقتی ہیں اور صورتحال بہتر ہونے پر ان کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔