ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایپل کا اوپن اے آئی پر بڑا مقدمہ، تجارتی راز چوری کرنے کا الزام

ایپل کا اوپن اے آئی پر بڑا مقدمہ، تجارتی راز چوری کرنے کا الزام
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ایپل نے چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی اور اپنے دو سابق ملازمین کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے کمپنی کے خفیہ تجارتی راز اور حساس معلومات اوپن اے آئی کے صارفین کے لیے ہارڈویئر تیار کرنے کے منصوبے کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیں۔

ایپل کی جانب سے امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ضلعی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اوپن اے آئی نے سابق ملازمین، بھرتیوں اور سپلائرز کے ذریعے ایپل کی خفیہ معلومات تک منظم انداز میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ صارفین کے لیے نئی ہارڈویئر مصنوعات کی تیاری کا عمل تیز کیا جا سکے۔

دوسری جانب اوپن اے آئی نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کو کسی دوسری کمپنی کے تجارتی راز میں کوئی دلچسپی نہیں اور اس کی توجہ ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے پر مرکوز ہے جو دنیا بھر کے صارفین کے لیے فائدہ مند ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قانونی تنازع مصنوعی ذہانت پر مبنی مستقبل کی ڈیوائسز کی دوڑ کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اوپن اے آئی اپنی ہارڈویئر مصنوعات یا ممکنہ اسمارٹ فون پر بھی کام کر رہی ہے، جو مستقبل میں ایپل کے آئی فون کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

ایپل نے مقدمے میں اپنے سابق سینئر سسٹم الیکٹریکل انجینئر چانگ لیو اور آئی فون و ایپل واچ کے سابق نائب صدر برائے پروڈکٹ ڈیزائن تانگ یو ٹین کو بھی فریق بنایا ہے۔ دونوں سابق ملازمین کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔