ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پڑوسن کاقتل،نوجوان نے تعلقات نہ بنانےپر گلا دبایا،9 دن بعد پردہ فاش

پڑوسن کاقتل،نوجوان نے تعلقات نہ بنانےپر گلا دبایا،9 دن بعد پردہ فاش
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست  کرناٹک کے شہر  بنگلورو کے مشرقی علاقے سبرامنیا لے آؤٹ میں 3، جنوری کی رات ایک فلیٹ میں آگ لگ گئی تھی، جس کے بعد  پولیس کی ابتدائی تفتیش میں یہ ایک حادثاتی واقعہ معلوم ہوا لیکن اس واقعے کے 9 دن بعد پولیس کو ایسے شواہد ملے جو دراصل ایک سوچے سمجھے اور سفاک قتل کی نشاندہی کر رہے تھے۔

 بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کے جس شہر کو سلکان ویلی کہا جاتا ہے، وہاں سے ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سیکورٹی اور پڑوسیوں پر بھروسے پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مشرقی بنگلورو کے سبرامنیا لے آؤٹ میں 3 جنوری کی رات ایک فلیٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ بنگلورو پولیس کی ابتدائی جانچ میں یہ ایک حادثاتی واقعہ معلوم ہوا۔ لیکن اس واقعے کے 9 دن بعد پولیس کو ایسے شواہد ملے جو دراصل ایک سوچے سمجھے اور سفاک قتل کی نشاندہی کر رہے تھے۔34 سالہ خاتون سافٹ ویئر انجینئر شرمیلا کوشلپا، جو اپنے فلیٹ میں مردہ پائی گئی تھیں، ان کی موت آگ سے نہیں بلکہ گلا دبا کر کی گئی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں ان کے پڑوسی 18 سالہ طالب علم کو گرفتار کیا ہے، جس نے اپنی سفاکیت کو چھپانے کے لیے پورے گھر کو آگ کے حوالے کر دیا تھا۔ اس نوجوان کا شرمیلا پر دل آگیا اور واقعہ والی رات وہ اچانک فلیٹ میں داخل ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 3 جنوری کی دیر رات جب سبرامنیہ لے آؤٹ کے ایک اپارٹمنٹ کی تیسری منزل سے آگ کے شعلے بلند ہوئے، تو پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ فائر بریگیڈ نے کافی محنت کے بعد آگ پر قابو پایا، لیکن تب تک فلیٹ کا کافی حصہ جل چکا تھا۔ ملبے کے درمیان 34 سالہ شرمیلا کوشلپا کا جسم ملا۔ ابتدائی تفتیش میں پولیس اور پڑوسیوں کو لگا کہ یہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔ کمرے کی حالت ایسی تھی کہ کسی کو بھی شک نہ ہوا کہ یہ ایک ‘پرفیکٹ مرڈر’ کی کوشش ہو سکتی ہے۔ لیکن جب لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا، تو فارنسک رپورٹ نے پولیس کے ہوش اڑا دیے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ شرمیلا کے پھیپھڑوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اتنی نہیں تھی جتنی کسی آگ میں پھنسے شخص میں ہونی چاہئے۔ اس کا مطلب تھا کہ جب فلیٹ میں آگ لگی، تب شرمیلا سانس نہیں لے رہی تھیں۔ ان کے گلے پر دباؤ کے نشان ملے، جس سے صاف ہو گیا کہ ان کا قتل گلا دبا کر  کیا گیا۔ اس کے بعد آگ لگائی گئی تاکہ شواہد مکمل طور پر ختم ہو جائیں اور اسے ایک ‘فائر ایکسیڈنٹ’ قرار دیا جا سکے۔ بنگلورو پولیس نے فوری طور پر اس معاملے کو قتل کی دفعات میں تبدیل کر دیا اور قریبی سی سی ٹی وی فوٹیج اور موبائل ٹاور لوکیشن کی جانچ شروع کی۔

بنگلور پولیس کی تفتیش کے دوران پولیس کا شبہ اسی کے پڑوسی 18 سالہ نوجوان پر گیا، جو PUC کا طالب علم ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران وہ بار بار اپنے بیانات بدل رہا تھا۔ جب پولیس نے سختی سے پوچھ گچھ کی اور تکنیکی شواہد پیش کیے، تو اس نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ ملزم نے بتایا کہ 3 جنوری کی رات وہ شرمیلا کے فلیٹ میں جبراً داخل ہوا تھا۔ اس نے شرمیلا سے جنسی تعلقات بنانے کا مطالبہ کیا، جسے شرمیلا نے ڈٹ کر رد کر دیا۔ملزم نے انکشاف کیا کہ جب شرمیلا نے شور مچانے کی کوشش کی اور خود کو بچانے کے لیے مزاحمت کی، تو اس نے غصے میں آ کر ان کا گلا گھونٹ دیا۔ جب اسے احساس ہوا کہ شرمیلا کی موت ہو گئی ہے، تو وہ گھبرا گیا۔ پکڑے جانے کے خوف سے اس نے اپنے فون پر ‘جرم کے نشانات مٹانے کے طریقے’ سرچ کیے اور پھر فلیٹ میں موجود آتش گیر مادے کا استعمال کر کے آگ لگا دی۔ اس نے وہاں سے شرمیلا کا موبائل فون بھی چرا لیا تاکہ کسی بھی طرح کا ڈیجیٹل ریکارڈ نہ رہے۔

بنگلور میں ہونیوالے اس  واقعے نے  جدید شہر میں خواتین کی حفاظت پر متعدد سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور خودمختار خاتون اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں رہی اور وہ بھی اپنے پڑوسی سے جو اس سے کافی چھوٹا تھا۔ ملزم طالب علم کو تین دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس اب یہ جانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا اس واقعے میں کوئی اور بھی شامل تھا یا ملزم نے پہلے بھی کسی ایسی واردات کی کوشش کی تھی۔

 دوسری جانب شرمیلا کے اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے۔ وہ ایک منصفانہ اور پرامن زندگی گزار رہے تھے، لیکن ایک وحشی طالب علم کی ہوس اور خوف نے ان کے گھر کا چراغ بجھا دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں اتنی مضبوط چارج شیٹ تیار کریں گے کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا ملے۔