ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بنگلا دیش میں عام انتخابات کیلئے میدان سج گیا،جماعت اسلامی اور بی این پی میں سخت مقابلہ

بنگلا دیش میں عام انتخابات کیلئے میدان سج گیا،جماعت اسلامی اور بی این پی میں سخت مقابلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سلیم رضا:   بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ملک کے 300 میں سے 299 حلقوں میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی، جبکہ ایک حلقے میں انتخاب ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ملک بھر میں 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 50 سے زائد سیاسی جماعتیں اور مجموعی طور پر ایک ہزار 981 امیدوار میدان میں ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے کم از کم 151 نشستوں پر کامیابی ضروری ہوگی۔

اہم مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے درمیان متوقع ہے۔ بی این پی کی جانب سے طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار سمجھے جا رہے ہیں جبکہ جماعتِ اسلامی کے شفیق الرحمان مضبوط امیدوار ہیں۔ نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی بھی انتخابی عمل میں شریک ہیں۔ عوامی لیگ پابندی کے باعث براہِ راست انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ انتخابات کو شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ملک بھر میں فوج تعینات کی گئی ہے جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت موٹر سائیکل چلانے پر عارضی پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔

انتخابات سے قبل کیے گئے ایک عوامی سروے کے مطابق بی این پی کو 44.1 فیصد اور جماعتِ اسلامی کے زیر قیادت اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

یہ انتخابات اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے اور ملک چھوڑنے کے بعد منعقد ہو رہے ہیں۔ عبوری حکومت کی سربراہی نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کر رہے ہیں۔

انتخابات اور ریفرنڈم کے سلسلے میں حکومت نے 11 اور 12 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کیا تھا، جو ہفتہ وار تعطیلات کے ساتھ ملا کر چار روزہ وقفے میں تبدیل ہو گئی۔ سرکاری و نجی ادارے، تعلیمی ادارے اور بینک بند رہیں گے جبکہ ضروری خدمات معمول کے مطابق جاری رکھی گئیں۔ تعطیلات کے آغاز پر ڈھاکہ سے آبائی علاقوں کو جانے والے مسافروں کے باعث ٹرانسپورٹ مراکز پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔