ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بنگلہ دیش میں انتخابات سے دو ماہ پہلے پہلا امیدوار قتل

Bangladesh violence, Candidate killed, political assassination, Dhaka, BNP, Awami League
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بنگلہ دیش میں عام انتخاب کا اعلان ہوتے ہی تشدد شروع ہو گیا۔ آج ایک  آزاد امیدوار کو شرپسندوں نے گولی مار دی۔
ایک دن  پہلےہی الیکشن کمیشن نے بنگلہ دیش میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں 12 فروری 2026 کو عام انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ پرچہ نامزدگی 29 دسمبر 2025 تک داخل کیے جائیں گے۔ 

آج کسے مارا گیا

 بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ’انقلاب منچ‘ کے ترجمان اور ڈھاکہ-8 انتخابی حلقہ سے آزاد امیدوار شریف عثمان ہادی جمعہ کی دوپہر کو انتخابی تشہیر کے دوران گولی مار دی گئی۔
بنگلہ دیشی میڈیا یو این بی نے بتایا کہ ڈھاکہ میڈیکل کالج اور اسپتال میں انھیں علاج کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس کیمپ کے انچارج انسپکٹر محمد فاروق نے بتایا کہ تشہیر کے دوران دوپہر تقریباً 2.30 بجے بدمعاشوں نے انھیں گولی ماری۔ حالانکہ پولیس نے یہ صاف نہیں کیا کہ ان کے جسم پر گولی کہاں لگی ہے۔

عام انتخابات جو عام نہیں
بنگلہ دیش میں بارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات عام نہیں ہیں۔ یہ انتخابات ملک کی طاقتور تانا شاہی کی لیڈر حسینہ واجد کو وزارت عظمی سے استعفیٰ دے کر ملک سے بھاگنے پر مجبور کرنے والے عوامی احتجاجوں کے نتیجے میں ہو رہے ہیں۔ اس الیکشن مین کئی مرتبہ کی حکمران حسینہ واجد اور بنگلہ دیش کے بانی مجیب الرحمان کی پارٹی عوامی لیگ کیسے لڑے گی، اس پارٹی کے کچلے ہوئے مخالف جیسے کہ جماعت اسلامی کیسے خود کو پارلیمانی سیاست مین واپس لانے کی سٹرگل کرین گے اور بستر مرگ پر پڑی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی پارٹی کیسے خود کی بقا کی جدوجہد کرے گی، یہ پیچیدہ عوامل ابھی سے انتخابی مہم کو غیر معمولی بنا رہے ہیں۔

عام انتخاب کے لیے شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد  سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی  تشدد کا رکا ہوا سلسلہ بھی پھر سے شروع ہو گیا ہے، جس نے شفاف اور تشدد سے پاک انتخابات کے امکان  پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں اس وقت  ماہرِ معیشت محمد یونس   عبوری حکومت کے سربراہ ہیں۔ ان کی سیاسی حمایت نہ ہونے کے برابر ہے اور تشدد سے نمٹنے کا انتظامی تجربہ صفر ہے۔  انتخابات میں امن برقرار رکھنے کے لئے اسی پولیس اور دیگر فورسز  پر انحصار ہے جو کچھ ماہ پہلے حسینہ واجد حکومت کو گرانے کا سبب بننے والے احتجاجوں کے دوران تشدد کے عنصر کو حاوی ہوتے دیکھتی رہیں لیکن کنٹرول نہ کر سکیں۔

’دی ڈیلی اسٹار‘ کے مطابق آزاد امیدوار ہادی کو آج دوپہر ڈھاکہ کے پلٹن علاقہ میں رکشہ میں جاتے وقت گولی ماری گئی۔ چشم دید گواہوں نے بتایا کہ ہادی رکشہ پر بجوئے نگر کی طرف جا رہے تھے، تبھی موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہنے 2 لوگوں نے بیت السلام جامع مسجد کے سامنے ان پر گولیاں چلائیں اور سہولت سے فرار ہو گئے۔
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے موتی جھیل ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر ہارون الرشید نے بتایا کہ پولیس حملہ آوروں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جائے حادثہ کے پاس ڈی آر ٹاور کے سیکورٹی گارڈ ثاقب حسین نے کہا کہ جب گولیاں چلیں تو وہ بلڈنگ کے اندر تھے۔ پولیس افسران نے اس معاملے کی جانچ کی بات کہی ہے۔
اس واقعہ سے ایک دن قبل جمعرات کی شام 6 بجے الیکشن کمیشن نے بنگلہ دیش میں انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کیا۔

الیکشن شیڈول کیا ہے

 پارلیمانی انتخاب کے لیے پرچہ نامزدگی 29 دسمبر 2025 تک داخل کیے جائیں گے۔ 30 دسمبر سے 4 جنوری 2026 تک پرچہ نامزدگی کی جانچ ہوگی۔ 20 جنوری نامزدگیاں واپس لینے کی آخری تاریخ ہے، جبکہ 21 جنوری کو انتخابی نشانات کا الاٹمنٹ اور حتمی امیدواروں کی فہرست جاری ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی 22 جنوری سے 10 فروری کی صبح 7.30 بجے تک انتخابی تشہیر کی اجازت ہوگی۔
بنگلہ دیش میں انتخابی تشدد کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بی این پی کے 2 گروپوں میں بھی تشدد کے معاملے دیکھنے کو ملے۔ بی این پی میں داخلی رنجش تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اکثر 2 گروپوں کے درمیان پُرتشدد واقعات پیش آ رہے ہیں۔ محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت میں ملک بھر میں تشدد اور انارکی والے حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ 

بھارت کے میڈیا مین  حسینہ واجد سے ہمدردی رکھنے والے تجزیہ کار بنگلہ دیش کی سیاست میں عوامی پارٹی کا کردار محدود ہوتا دیکھ کر  ملک بھر میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ حکومت کے حامیوں کو نشانہ بنائے جانے کا واویلا کر رہے ہیں۔ یہ طرز عمل سیاست میں حسینہ واجد ہی لے کر آئی تھیں۔ اب  باقی ماندہ دسمبر، پورے جنوری اور فروری کے پہلے دس دنوں کے دوران غالباً عوامی لیگ ہی سب ے زیادہ تشدد کا سامنا کرے گی۔۔