سٹی42: سو گرام وزن زیادہ ہونے کے سبب پیرس اولمپکس میں ریسلنگ کے فائنل سے باہر نکال دی گئی ونیش پھوگاٹ کامیاب سیاستدان بننے کے بعد ایک بار پھر اکھاڑے میں آ گئی، ایک بار پھر اولمپکس کھیلنے کا نعرہ لگا دیا۔
مشہور ہریانے کی شان مانی جانے والی خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ نے ریٹائرمنٹ ختم کر دی اور اولمپکس کے لئے تیاری شروع کر دی۔
اس نے پیرس اولمپکس کا فائنل کھیلے بغیر ہارنے کے بعد کشتی چھوڑ دی تھی، کچھ مہینے بعد اس نے سیاست کے اکھاڑے میں قدم رکھا، ہریانے کی اسمبلی کے لئے الیکشن لڑا اور مقابل پہلوان کو دھوبی پٹڑا لگا کر ہریانہ اسمبلی کی رکن بن گئی۔آج کل وہ ہریانے میں اپوزیشن کی اہم رکن ہیں۔

اب - اگر اس کا ارادہ پورا ہو گیا اور متعلقہ سلیکٹرز نے اسے اولمپکس کھیلنے کے لئے بھیج دیا تو- اور اب غالباً بھارت ہی نہیں دنیا بھر میں بھی پہلی سیاستدان ہو گی جو اولمپک گیمز میں کھیلے گی۔
ونیش پھوگاٹ نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ کیا پیرس میرا آخری سفر تھا؟ میرے پاس طویل مدت سے اس سوال کا جواب موجود نہیں تھا۔‘‘
ونیش پھوگاٹ نے اکھاڑے سے صرف چند ماہ ہی دور رہنے کے بعد اپنے ریٹائرمنٹ سے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ونیش نے اگست میں ہی کھیل سے دوری اختیار کی تھی، اور سیاست میں انٹری لی تھی۔ اب وہ ایک بار پھر لاس اینجلس اولمپکس میں کھیلنے کے لئے کمر کس چکی ہیں۔ ونیش نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اپنے شیدائیوں کےساتھ یہ اپڈیٹ شیئر کیا۔
ونیش پھوگاٹ نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’مجھے میدان سے، پیرشر سے، امیدوں سے، یہاں تک کہ اپنے خوابوں سے بھی دور جانے کی ضرورت تھی۔ سالوں میں پہلی بار میں نے چین کا سانس لیا۔ اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کے لیے میں نے تھوڑا وقت لیا۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’’زندگی کے نشیب و فراز، قربانی، میری وہ شکل جسے دنیا نے کبھی نہیں دیکھا۔ مجھے اب بھی کھیل پسند ہے۔ اب بھی میں مقابلہ میں حصہ لینا چاہتی ہوں۔‘‘
ونیش نے اس پوسٹ میں آگے لکھا ہے کہ ’’سناٹے میں مجھے کچھ ایسا ملا جسے میں بھول گئی تھی۔ آگ کبھی نہیں بجھتی ہے۔ یہ صرف تھکاوٹ اور شور کے نیچے دبی ہوئی تھی۔ ڈسپلن، معمولات زندگی، لڑائی... یہ میرے سسٹم میں ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں کتنی دور چلی گئی، میرا ایک حصہ میٹ matپر ہی ہے!‘‘ , ’’میں یہاں ہوں، ایک ایسے دل کے ساتھ جو بے خوف ہے اور ایک ایسے جذبے کے ساتھ جو جھکنے سے انکار کرتا ہے، ایل اے 28(لاس اینجلس اولمپکس 2028) کی طرف واپس قدم رکھ رہی ہوں۔ اور اس بار میں تنہا نہیں چل رہی ہوں، میرا بیٹا میری" ٹیم" میں شامل ہو رہا ہے، میری سب سے بڑی ترغیب، 2028 اولمپک کی اس راہ پر میرا چھوٹا چیئر لیڈر۔‘‘

ونیش پھوگاٹ صرف پہلوان اور سیاستدان ہی نہیں وہ پسماندہ معاشرہ میں مردوں کی ہراسمنٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک روشن مثال بھی ہے۔ اس نے بھارت کی سیاست میں بہت طاقتور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ، نریندر مودی کے دوست، انڈین ریسلنگ فیڈریشن کے صدر برج بھوشن چرن سنگھ کی دہلی کی سڑکوں پر ایسی قلابازیاں لگوائیں کہ اسے فیڈریشن سے نکلوا دیا۔ اپنے احتجاجوں سے بھاجپا کو اس قدر ذلیل کیا کہ اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا اہم لیڈر مانا جانے والا برج بھوشن 2024 کے لوک سبھا الیکشن سے بھاگ گیا۔
ہریسر کی سیاست برباد ہو گئی تو اس کے بعد ونیش پھوگاٹ نے ہریانے میں اپنی سیاست آغاز کی اور لوگوں نے اسے ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب کیا حالانکہ یہاں الیکشن میں بھاجپا کے زیادہ امیدوار جیتے۔
