ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مودی کے روندے ہوئے بھارت میں مسلم نوجوان کو قید کے چھٹے سال دو ہفتے کی رہائی کیوں ملی؟

Umar Khalid Delhi riots case, City42, Parole , Indian injustice system
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  دہلی فسادات کے الزام میں پانچ سال سے جیل میں بند رکھے گئے مسلم نوجوان کو آخر کار 14 دن کے لیےعبوری ضمانت پر رہائی مل گئی۔ یہ ضمانت کسی عدالت نے انصاف کے کسی اصول کا بول بالا کرنے کی غرض سے نہیں لی بلکہ نوجوان کی بہن کی شادی میں شرکت کے لئے اسے جیل سے دو ہفتے کی چھٹی ملی ہے۔ اس نوجوان کی ضمانت کی درخواستوں کو عدالتیں پانچ سال سے دبا کر بیٹھی ہیں۔ اس دوران نہ مقدمہ چلاتے ہیں نہ ضمانت ہی لیتے ہیں۔
جیل میں بند عمر خالد نے دسمبر ماہ کے آخر میں اپنی بہن کی شادی میں شامل ہونے کے مقصد سے عبوری ضمانت کی عرضی کڑکڑڈوما کورٹ میں داخل کی تھی۔ عمر خالد کی بہن کی شادی 27 دسمبر کو ہونے والی ہے۔ 
 
دہلی کی ٹرائل کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے الزام میں ملزم عمر خالد کو  گرفتار کر رکھا ہے، اب پولیس یہ احمقانہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ دراصل مودی کی ریجیم چینج کرنے کی کسی سازش پر عمل کر رہا تھا۔ اس پر بنائے گئے کیس کے حقائق یہ ہیں کہ نہ تو اس کا فساد سے کوئی دور تک کا تعلق نکلا نہ ہی وہ کسی نام نہاد ریجیم چینج سازش میں رہا۔ ایسی کوئی سازش تو دراصل کبھی ہوئی ہی نہیں۔

اب عدالت نے عمر خالد کو ان کی بہن کی شادی میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے عمر خالد کی 14 دنوں کی عبوری ضمانت  16 دسمبر سے 29 دسمبر تک کے لیے ہ لی ہے۔

یہ بھی تب ہوا ہے جب عمر خالد اور دیگر مسلمان نوجوانوں کی پانچ سال سے قید ختم کرونے کے لئے ضمانت کی درخواستوں کو لٹکا لٹکا کر سننے کے بعد سپریم کورٹ "فیصلہ محفوظ" کر کے بیٹھی ہے۔

عمر خالد کو ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے کچھ شرطیں بھی لگائی ہیں۔
عمر کو 29 دسمبر 2025 کی شام کو متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے خود سپردگی کرنی ہوگی۔  ضمانت کے دوران وہ دہلی-این سی آر سے باہر نہیں جا سکیں گے۔ عدالت نے کہا کہ ضمانت کے دوران عمر خالد کو تفتیشی افسر کو اپنا موبائل نمبر اور اپنی لوکیشن دینی ہوگی۔ ساتھ ہی عبوری ضمانت کی مدت تک موبائل فون کر ہمیشہ فعال رکھنا ہوگا۔
 عبوری ضمانت کی مدت میں عمر خالد  اپنی فیملی اور دوستوں سے ملاقات ضرور کر سکے گا، لیکن وہ اپنے گھر پر ہی رہے گا، یا پھر ان مقامات پر جہاں شادی کی تقریب منعقد کی جائے گی۔
بہن کی شادی میں شامل ہونے کے لیے عمر خالد کو ملی عبوری ضمانت پر پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ افسوسناک اور حیران کرنے والا معاملہ ہے کہ عمر خالد کو  (15 دن کیلئے) پیرول حاصل کرنے کے لیے 5 سال تک انتظار کرنا پڑا۔ یہ پیرول تب ملی جب انھوں نے اپنی بہن کی شادی میں شامل ہونے کے مقصد سے عرضی داخل کی۔

محبوبہ مفتی نے کہا،  دوسری طرف گرمیت سنگھ جیسے زانی اور قتل کے قصوروار بار بار پیرول پر چھوٹتے رہتے ہیں۔ محبوبہ نے اپنی اتحادی جماعت بھجپا کے روندے ہوئے ملک کے نظامِ انصاف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ تضاد ہے، یہ عدم مساوات ہمارے نظامِ انصاف میں ایک فکر انگیز جانبداری کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘