ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 گرین لینڈ میں سپیس بیس کی خاتون کمانڈر کو ٹرمپ پالیسی سے لاتعلقی کی سزا

کرنل سوزن مائزر نے نائب صدر جے ڈی ونس کی بیس کے وزٹ کے دوران تقریر کے بعد اس سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے کہا تھا،  سپیس بیس کے خیالات نہیں

Colonel Susan Myers fired, City42 JD Vance , Trump's Greenland policy
کیپشن:   اس تصویر میں کرنل سوزن مائر (بائیں) کو نائب صدر جے ڈی ونس اور ان کی بھارتی نژاد  اہلیہ اوشا کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر نائب صدر کے پٹوفک بیس کے وزٹ کے دوران بنائی گئی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: واشنگٹن میں امریکی فوج  کی قیادت نے ایک سینئیر فوجی افسر کو سیاسی نعروں پر پروفیشنل فوجی اپروچ کو ترجیح دینے کے جرم میں  ٹرانسفرکر دیا۔

 گرین لینڈ میں فوجی اڈے پٹُفِک سپیس بیس کی کمانڈر کرنل سوزن مائرز کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ کرنل سوزن مائرز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے واہٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد  زیر عتاب آنے والی پانچویں خاتون فوجی اہلکار ہیں۔

پٹوفک سپیس بیس کا مرکزی کردار  کسی غیر معمولی نقل و حرکت سے خبردار کرنا ہے۔ یہاں ایک ریڈار اسٹیشنہے  اور بیلسٹک میزائلوں کے لیے ابتدائی وارننگ سسٹم  نصب ہے۔

اس بیس  کی پوزیشن، قطب شمالی کے قریب ہے، یہ خاص طور پر روس میں افق پر جھانکنے کے لیے ایک مثالی مقام ہے۔

گرین لینڈ کے خودمختار علاقہ کے اصولی مالک ڈنمارک کی اجازت کی وجہ سے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ پٹوفک میں موجود ہے۔ امریکہ اور ڈنمارک دونوں نیٹو میں ہیں اور نظریاتی طور پر قریبی اور قابل اعتماد اتحادی رہے ہیں۔

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلسل اصرار کہ امریکہ کو گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہیے تھا، نے اچانک اس قطب شمالی کے امریکی اڈے کی پوزیشن کو متنازع بنا دیا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان نے کرنل سوزن مائرز کو برطرف کئے جانے کے متعلق کہا، ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے سے ہٹ کر کسی بھی طرزِ عمل کو وزارت دفاع میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 کرنل مائرز کو جمعرات کے روز  برطرف کیا گیا جب  ایک نیوز ویب سائٹ نے ایک رپورٹ میں ان کی ای میل کا ذکر کیا۔ اس ای میل میں کرنل مائرز نےامریکی نائب صدر جے ڈی ونس کے 28 مارچ کے دورے کے بعد اپنے ماتحت اہلکاروں کو لکھا کہ نائب صدر کی باتیں پٹفک اسپیس بیس کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

صدر ٹرمپ نےگرین لینڈ (جو ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے) کو امریکہ میں شامل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔اس اعلان پر  ڈنمارک اور گرین لینڈ کے سیاستدانوں نے شدید اعتراضات کیے۔

اب یہ ہوا کہ نائب صدر جے ڈی وانس نے پٹفک بیس کا وزٹ کیا اور وہاں ایک تقریر کی۔ اس تقریر مین صدر ٹرمپ کے نائب نے ڈنمارک پر تنقید کی جس پر مقامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

Caption  امریکہ کے نائب صدر  جے ڈی وینس  بائیں، اور ان کی بیوی اوشا وینس گرین لینڈ کے پٹوفک بیس کے وزٹ کے بعد واپس روانہ ہوتے ہوئے   ایئر فورس ٹو میں سوار ہو نے سے پہلے بیس کے اہلکاروں کو خدا حافظ کہہ رہے ہیں۔ ان میں یقیناً کرنل سوزن بھی شامل تھیں، جنہیں وائس پریذیڈنٹ کی سیاسی تقریر سے لاتعلقی کے اظہار کی پاداش میں فائر کر دیا گیا۔ 

کرنل سوزن مائزر کی پروفیشنل اپروچ

اس تقریر پر گرین لینڈ میں تنقید ہونے کے بعد  کرنل مائرز نے بیس کے اہلکاروں کو لکھا تھا ’میں موجودہ سیاسی حالات کو سمجھنے کی دعویدار نہیں ہوں لیکن میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ نائب صدر وانس نے جن معاملات کا ذکر کیا وہ پٹفک اسپیس بیس کی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتے‘۔

امریکی اخبار کے مطابق کرنل مائرز کی برطرفی کے اس اقدام کو صدر ٹرمپ کی زیر قیادت جاری فوجی قیادت میں تبدیلیوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس میں اب تک 5 خواتین سمیت کم از کم 10 سینئر افسران کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ 

 نیٹو میں امریکی ملٹری کمیٹی کی نمائندہ ایک نیوی ایڈمرل کو بھی اسی ماہ عہدے سے ہٹایا تھا۔

امریکی سپیس فورس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کرنل مائرز کو  امریکہ کی قیادت کرنے کی صلاحیت پر عدم اعتماد کی بنیاد پر برطرف کیا گیا ہے۔  بیان میں کہا گیا کہ ’کمانڈرز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی معیار پر پورا اتریں، خصوصاً جب بات غیر جانبدار رہنے کی ہو‘۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے کرنل سوزن مائرز کی برطرفی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کو کمزور کرنے یا چین آف کمانڈ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں محکمہ دفاع میں کسی صورت قابلِ قبول نہیں‘۔

امریکی اخبار کے مطابق کرنل مائرز کو پٹفک بیس سے ہٹا کر کسی اور جگہ تعینات کر دیا گیا ہے۔