ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی،  یہ زمین ہماری ہے، نیتن یاہو کا اعلان

E1 settlement , City42 , long-frozen E1 settlement project, Bezalel Smotrich
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 اسرائیل کی اتحادی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو  فلسطین کے علاقہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں ایک متنازعہ یہودی بستی  بسانے کے منصوبے کے آغاز کی تقریب کے دوران اعلان کیا کہ فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی۔  فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی،  یہ زمین ہماری ہے، نیتن یاہو کا اعلان

جمعرات کے روز  نیتن یاہو نے متنازعہ E1 آباد کاری کے توسیعی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے جو فلسطینیوں کے لیے ریاست کے لی طے کی جانے والی زمین کو  یروشلیم سےکاٹ دے گا۔

"ہم اپنا وعدہ پورا کرنے جا رہے ہیں کہ وہاں کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہوگی، یہ جگہ ہماری ہے،" نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں واقع معالے عدومیم  Ma'ale Adumim بستی کے دورے کے دوران کہا، جہاں منصوبہ یہ ہے کہ  ہزاروں نئے ہاؤسنگ یونٹس  کئی مربع کلومیٹر رقبہ پر تعمیر کیے جائیں گے۔

نیتن یاہو نے اس تقریب میں اپنی تقریر مین کہا،  "ہم اپنے ورثے، اپنی زمین اور اپنی سلامتی کی حفاظت کریں گے… ہم شہر کی آبادی کو دوگنا کرنے جا رہے ہیں۔" اس تقریب کو ان کے دفتر نے براہ راست نشر کیا۔

نیتن یاہو نے  کہا“ہم اپنا وعدہ پورا کریں گے کہ کوئی فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آئے گی، یہ زمین ہماری ہے۔ ہم اپنی وراثت، اپنی سرزمین اور اپنی سلامتی کا دفاع کریں گے اور ہم اس شہر  کی آبادی کو دگنا کریں گے۔”

العربیہ نے اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل طویل عرصے سے "ای ون" (E1) نامی تقریباً 12 مربع کلومیٹر علاقے میں نئی رہائشی آبادیاں تعمیر کرنے کا خواہاں رہا ہے، تاہم بین الاقوامی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ سالوں تک رکا رہا۔ گزشتہ ماہ اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے اس حساس علاقے میں 3,400 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی حمایت کی تھی، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا لیکن نیتن یاہو کی حکومت اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ 

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اس منصوبے کو مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور ایک متصل فلسطینی ریاست کے وجود کے لیے “وجودی خطرہ” قرار دیا۔

دریائے اردن کے مغربی کنارے میں اسرائیل کی تمام بستیاں، جو 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں،   کئی یورپی ممالک انہیں غیر قانونی تصور کرتے ہیں۔ اب نیتن یاہو نے ای ون کی ایک متنازعہ بستی میں تعمیرات کا کام دوبارہ شروع کیا تو یورپ کے کئی ممالک کی طرف سے اس پر سخت احتجاج سامنے آیا ہے۔ 

 برطانیہ اور فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کریں گے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا بھی یہ ہی ارادہ  بتا چکے ہیں۔