سٹی42: اسرائیل کے قطر میں حماس کے دفاتر پر بمباری کرنے کی دنیا نے سخت مذمت کی، اس کے باوجود اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے قطر کو دھمکی دی ہے کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو نکالے یا انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائے: 'اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو ہم کریں گے'۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو 10 ستمبر 2025 کو جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں بول رہے ہیں۔ (اسکرین شاٹ/جی پی او)
دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کے خلاف اسرائیل کے حملے پر بین الاقوامی تنقید کے درمیان وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے طنزیہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے قطر سے کہا: "آپ یا تو انہیں نکال دو یا پھر انصاف کے کٹہرے میں لاؤ۔ کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو ہم کریں گے۔"
انگریزی زبان میں ایک ویڈیو بیان میں بات کرتے ہوئے، نیتن یاہو نے اسرائیل کے حملے کا موازنہ 11 ستمبر 2001 کو نیویارک اور واشنگٹن پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد کی امریکی کارروائیوں سے کیا۔ نائن الیون کے نام سے مشہور القائدعہ دہشتگردی کی آج 24 ویں برسی ہے۔
"ہمارے پاس بھی 11 ستمبر ہے،" نیتن یاہو نے کہا۔ "ہمیں 7 اکتوبر یاد ہے۔ اس دن، دہشت گردوں نے ہولوکاسٹ کے بعد یہودیوں کے خلاف بدترین وحشیانہ کارروائی کی۔"
نیتن یاہو اپنے ویڈیو بیان میں پوچھتا ہے، 11 ستمبر کے بعد امریکہ نے کیا کیا؟ ۔ "اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کو پکڑے گا جنہوں نے اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا، وہ جہاں بھی ہوں گے۔ اور اس نے دو ہفتے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد بھی منظور کی، جس میں کہا گیا تھا کہ حکومتیں دہشت گردوں کو پناہ نہیں دے سکتیں۔" اسرائیل نے بھی اس طرز عمل پر عمل کیا، نیتن یاہو نے قطر پر دہشت گردوں کو پناہ دینے، حماس کی مالی معاونت کرنے اور اس کے رہنماؤں کو رہنے کیلئےحویلیاں دینے کا الزام لگایا۔
نیتن یاہو نے کہا، ’’لہٰذا ہم نے بالکل وہی کیا جو امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ کے دہشت گردوں کے پیچھے جانے اور پاکستان میں اسامہ بن لادن کو مارنے کے بعد کیا۔‘‘ وہی ممالک جنہوں نے بن لادن کو مارنے پر امریکہ کی تعریف کی انہیں اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔