ویب ڈیسک:سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مجلس شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں اسرائیل کے حالیہ قطر پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہر حال میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔
محمد بن سلمان نے کہا کہ اس قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اسے روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ سعودی ولی عہد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’غزہ فلسطینی سرزمین ہے اور کوئی طاقت فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم نہیں کر سکتی۔‘‘
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان بھی دوحہ پہنچے، جہاں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے ائیرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس دورے کو قطر کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب قطر کے وزیراعظم نے اسرائیلی حملے کو ’’ ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوحہ کو اس جارحیت کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی کارروائی نے یرغمالیوں کی رہائی کی تمام امیدوں کو ختم کر دیا ہے، اس لیے عالمی برادری کو نیتن یاہو کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
عرب دنیا کے دیگر رہنماؤں نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اپنے بیانات میں قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور کہا کہ اسرائیل کے اقدامات خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایک روز قبل اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس حملے میں حماس رہنما خلیل الحیا کے بیٹے سمیت چھ افراد شہید ہوئے جبکہ ان کا دفتر بھی تباہ کر دیا گیا، تاہم حماس کی مرکزی قیادت محفوظ رہی۔