ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خواجہ آصف نےدہشتگردوں کے سرپرستوں کے لئےخطرے کی گھنٹی بجا دی

 Afghanistan sponsored terrorism, counter terrorism, city42

   سٹی42: وزیردفاع خواجہ آصف نےدہشتگردوں کے سرپرستوں کے لئےخطرے کی گھنٹی بجا دی۔

خواجہ محمد آصف نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد افغانستان میں کارروائی کرسکتا ہے۔
 آج منگل اور بدھ کی درمیانی رات وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ  پاکستان دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد افغانستان میں کارروائی کرسکتا ہے۔

ایک نیوز چینل کے ساتھ انترویو میں خواجہ آصف نے اعلان کیا کہ حالیہ واقعات میں افغان مداخلت کے ثبوت استبول مذاکرات کے  ثالثوں (ترکی اور قطر)کے سامنے رکھے جائیں گے۔

وزیر دفاع نےواضح الفاظ مین بتایا، "ہم جارحیت کا وار خالی نہیں جانے دیں گے، بھرپورجواب دیں گے۔"افغان طالبان کی مذمت یا افسوس کا اظہار سچائی کا ثبوت نہیں. افغان طالبان کی پناہ میں رہنے والے لوگ بار بار ہم پر حملہ کررہےہیں۔

وزیر دفاع نے کہا, وانا کیڈٹ کالج میں اللہ کی مہربانی سے پاک فوج نے کیڈٹس کو بچایا ہے۔

خواجہ آصف نے بھارت کے حوالے سےبات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے متعلق ہم حالیہ جنگ (چھ تا دس مئی کی جنگ) کے وقت سے ہی ہائی الرٹ پر ہیں" "بھارت افغانستان کے راستے جارحیت کررہا ہے، کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے ہمسائے کا دشمنی والا رویہ سامنے آچکا ہے۔"

وزیر دفاع نے کہا، کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ دہشتگردی کے زیادہ تر واقعات میں اکثریت افغان دہشتگردوں کی ہے۔ افغان طالبان کا دشمنی والا رویہ سامنے آچکا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا،  دوست ممالک کوئی دوا کرنا چاہتے ہیں توضرور کریں، افغان طالبان کی زبانی باتوں پر افغانستان میں کوئی بھروسہ نہیں کرتا تو ہم کیسے کرلیں، ثالثوں کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں کہ اس کے پیچھے بھارت ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ سے دہشتگردوں کو پیسے ملتے ہیں، افغانستان سے متعلق دستیاب تمام سفارتی آپشنز استعمال کریں گے۔

اس کے ساتھ وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد حملے سے پیغام دیا گیا آپ کے تمام علاقے ہماری زد میں ہیں، انہوں نے کہا، پاکستان بھرپور جواب دے گا۔
  خواجہ آصف نے کہا،   کالعدم ٹی ٹی پی کے سارے چیلے کابل میں بیٹھے ہیں اور افغان حکومت افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا، دہشت گردانہ کارروائیاں نہ سرحدی اور نہ ہی شہری علاقوں میں برداشت کی جائیں گی۔

اندازہ تھا کہ یہ ہو گا

اسلام آباد کچہری دھماکے پر صحافیوں سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ اندازہ تھا ہم پر پریشر ڈالنے کےلیے اس قسم کی کوئی حرکت کی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ اب تک دہشتگردی سرحدی علاقوں تک محدود تھی، اسلام آباد میں دہشت گردی کے حملہ کو پاکستانی ریاست کے لئے  پیغام سمجھنا چاہیے۔

 خواجہ آصف کنے یہ دہرایا کہ افغانستان کی حکومت افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں دہشت گردانہ حملےسے ہمیں پیغام دیا گیا آپ کے تمام علاقے ہماری زد میں ہیں۔

 وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے عوام اور افواج دہشت گردی کےخلاف قربانیاں دے رہے ہیں، پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا، دہشت گردانہ کارروائیاں نہ سرحدی اور نہ ہی شہری علاقوں میں برداشت کی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت سے کامیاب ڈائیلاگ کی تھوڑی امید تھی لیکن اس حملے کے بعد دیکھنا پڑے گا، ان حالات میں ریاست کو سنجیدہ ہوکر سوچنا ہوگا۔

 کالعدم ٹی ٹی پی کے سارے چیلے کابل میں بیٹھے ہیں، کابل حکومت کس طرح ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتی۔

آج  اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکے میں  12 افراد شہید اور 30 زخمی ہوگئے۔  اور وانا میں افغانستان سے بھیجے گئے دہشت گردوں نے کیڈٹ سکول کے اندر گھس کر بچوں کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کی، اس حملے میں پانچ دہشتگرد مارے گئے اور کسی بچے، بڑے کو کوئی گزند نہیں پہنچی۔