سٹی42: لاہور کا فضائی معیار خطرناک حد تک خراب ہو نے کے باعث لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 561 ریکارڈ کیا گیا، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی درجہ بندی کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی شرح 900 سے بھی تجاوز کر گئی۔اقبال ٹاؤن میں 947، ایف سی کالج کے اطراف 923، گلبرگ جی تھری میں 810، ڈی ایچ اے فیز 8 میں 809، صدر کینٹ میں 715، پنجاب یونیورسٹی کے اطراف 703 اور سید مراتب علی روڈ پر 702 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق اے سی آفس شالیمار میں 780، راوی روڈ پر 761، علامہ اقبال ٹاؤن میں 649، ایف ایف پاکستان کے اطراف 647، ڈی ایچ اے فیز 8 میں 645، سید مراتب علی روڈ پر 591 اور سی ای آر پی گلبرگ میں 567 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین ماحولیات نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے، اور بیرونی سرگرمیاں محدود رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ شہر میں ہوا کی رفتار 3 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 78 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ موسم میں ہوا کے ساکن ہونے اور دھند کے باعث سموگ میں اضافہ ہو رہا ہے، جو شہریوں کے لیے شدید سانس اور آنکھوں کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب اسموگ الرٹ کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا شیڈول سامنے آگیا ہے۔محکمہ تعلیم کے مطابق صوبے بھر میں موسم سرما کی چھٹیاں 22 دسمبر 2025 سے شروع ہوگئیں اور 09 جنوری 2026 تک جاری رہیں گی۔ ہفتہ اور اتوار کی چھٹی کے باعث پنجاب میں سکولز دوبارہ 12 جنوری کو کھولیں گے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے واضح کیا گیا کہ یہ شیڈول سرکاری اور نجی دونوں تعلیمی اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا، کسی بھی سکول کو اپنے طور پر شیڈول تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔