ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یو اے ای میں امریکی ایف-35 جنگی طیارہ کی ایمرجنسی لینڈنگ،ایران کا دعویٰ

گزشتہ 24 گھنٹے میں یہ دوسرا امریکی جنگی طیارہ ہےجس نے ایمرجنسی کوڈ ٹرانسمٹ کیا

یو اے ای میں امریکی ایف-35 جنگی طیارہ کی ایمرجنسی لینڈنگ،ایران کا دعویٰ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدر آباد میں واقع ایرانی سفارت خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائیہ کے ایک ایف.5  اے لائٹننگ-II جنگی طیارہ نے متحدہ عرب امارات  میں ایمرجنسی لینڈنگ کی ہے۔ایران کی طرف سے کئے گئے دعویٰ کی امریکہ یا یو اے ای کی طرف سے کسی طرح کی تردید نہیں کی گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں یہ دوسرا امریکی ایف-35 اے لائٹننگ-II ہے، جس نے ایمرجنسی کوڈ ٹرانسمٹ کیا۔ 

بھارتی ذرائع ابلاغ کی  رپورٹ کے مطابق ایرانی سفارت خانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر بتایا کہ امریکی ایف-35 اے جیٹ عمانی سمندر کے اوپر پرواز بھر رہا تھا۔ اسی دوران اس نے ایمرجنسی کوڈ 7700 ٹرانسمٹ کیا۔ ہوابازی سیکٹر میں 7700 کو عام ایمرجنسی سگنل مانا جاتا ہے۔ دعویٰ کے مطابق کوڈ بھیجنے کے فوراً بعد ہی جنگی طیارہ نے اپنا راستہ بدل لیا۔ اس کے بعد اس نے یو اے ای کے الظفرۃ ایئربیس پر ایمرجنسی لینڈنگ کی۔ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں یہ دوسرا امریکی ایف-35 اے لائٹننگ-II ہے، جس نے ایمرجنسی کوڈ ٹرانسمٹ کیا۔ ایران کی طرف سے کیے گئے دعویٰ کی امریکہ یا یو اے ای کی طرف سے کسی طرح کی تردید نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس کے اتفاق پر مبنی کوئی آفیشیل بیان ہی سامنے آیا ہے۔ الظفرۃ ایئربیس یو اے ای میں امریکہ کا اہم فوجی ٹھکانہ مانا جاتا ہے۔ یہاں امریکی فضائیہ سے جنگی طیارہ اور نگرانی سسٹم تعینات رہتے ہیں۔
واضح رہےکہ آفیشیل امریکی ویب سائٹ کے مطابق ایف-35 لائٹننگ-II لاک ہیڈ مارٹن کے ذریعہ تیار دنیا کا سب سے خوشحال، پانچویں نسل کا اسٹیلتھ ملٹی رول فائٹر جیٹ ہے۔ یہ رڈار سے بچ نکلنے کی صلاحیت، سنسر فیوزن اور زبردست رفتار 1.6 میک سے زیادہ  کے ساتھ ہوا سے ہوا، ہوا سے زمین اور خفیہ نگرانی مشنوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ امریکی  افواج کے علاوہ  اس لڑاکا طیارے کو  برطانیہ، اٹلی، نیدرلینڈ، کناڈا، آسٹریلیا، جاپان اور اسرائیلی جیسے ساتھی ممالک بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے مطابق ملک کو اس جنگی طیارہ سے کافی امیدیں ہیں۔ یہ پرانے ایف-16 اور اے-10 طیاروں کی جگہ لے رہا ہے اور مستقبل میں ہوائی جنگ میں مضبوطی ثابت کرنے کیلئے بہت اہم ہے۔