سٹی42: بھارت کے ہندوتوا کو دنیا پر مسلط کرنے کا خواب دیکھنے والے وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان پر شب خون مارنے کی حماقت گلے پڑ گئی، پاکستان کے غیض بھرے جوابی اوفینسیو سے بچنے کے لئے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ معافی مانگ کر جنگ بندی کر لی لیکن اب بھارت مین مودی کا گھیراؤ کیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے نے پہلگام حملے، پاکستان مین سویلین مسجدوں پر اشتعال انگیز حملوں پر مشتمل آپریشن سیندور اور آخر میں پاکستان کے غیض بھرے حملوں سے مار کھا کر مکمل تباہی سے بچنے کے لئے شرم ناک جنگ بندی پر بحث کے لیے کانگریس نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ ایک بار پھر کر دیا۔
سٹی42: نئی دہلی سے خبر آئی ہے کہ کانگرس پارٹی نے نریندر مودی کا گریبان پکڑ لیا ہے اور پہلگام دہشت گرد حملے، ’آپریشن سندور‘ اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے اعلانات پر حکومت سے جواب طلب کرت لیا ہے۔ کانگرس نے انڈیا کی پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔
اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور نریندر مودی کے متبادل راہل گاندھی، کانگرس کے مرکزی صدر اور انڈین سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے اور کانگرس کے سیکرٹری جنرل، راجیہ سبھا میں کانگرس کے سینئیر لیڈر جے رام رمیش نے یکے بعد دیگرے بیانات اور خطوط کے ذریعے نریندر مودی حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ ان سنگین قومی معاملات پر پارلیمنٹ کے اندر بحث کا سامنا کرے۔
راہل گاندھی نے نریندر مودی کو لکھے اپنے خط میں کہا ہے کہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پہلگام دہشت گردی، ’آپریشن سیندور‘ اور جنگ بندی, جس کا پہلا اعلان امریکی صدر ٹرمپ نے کیا، جیسے حساس موضوعات پر پارلیمنٹ میں کھل کر بحث کر سکیں۔ راہل گاندھی نے اس موقع کو ایک ایسا موقع قرار دیا ہے جو ملک کے اجتماعی عزم اور یکجہتی کو ظاہر کر سکتا ہے۔
دوسری طرف راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے بھی وزیر اعظم کو یاد دلایا ہے کہ اپوزیشن نے پہلے ہی 28 اپریل کو ایک خط کے ذریعے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ پہلگام حملے پر بات چیت کی جا سکے۔
کھڑگے کے مطابق، تازہ پیش رفت، جن میں پاکستان میں مسجدوں پر کئے گئے حملوں پر مشتمل ’آپریشن سیندور‘ اور اب پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے اعلانات شامل ہیں، ک ان دو واقعات کے بعد یہ (پارلیمنٹ کا اجلاس کرنے کا) مطالبہ اور زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ راہل گاندھی کے خط میں کیے گئے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور ترجمان جے رام رمیش نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس وزیر اعظم کی صدارت میں ایک آل پارٹی میٹنگ اور پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ پہلگام حملہ، آپریشن سیندور اور امریکہ سمیت دیگر فریقوں کے کردار پر بحث ہو سکے۔
کشمیر پر ثالثی کے امریکی بیانات؛ کیا مودی نے شملہ معاہدہ ترک کر دیا؟
جے رام رمیش نے امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ’نیوٹرل (غیر جانب دار) پلیٹ فارم‘ کا ذکر کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ کیا حکومت ہند نے شملہ معاہدے کو ترک کر دیا ہے؟ کیا ہم تیسرے فریق کی ثالثی کے لیے دروازے کھول چکے ہیں؟ رام رامیش نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سفارتی بات چیت دوبارہ شروع ہو رہی ہے تو ملک کو بتایا جائے کہ کن شرائط پر بات ہو رہی ہے اور اس کے بدلے ہمیں کیا حاصل ہوا۔
انڈین آرمی کے دو سابق سربراہوں کے بیانات؛ مودی جواب دے
کانگریس نے وزیراعظم سے یہ بھی پوچھا ہے کہ دو سابق فوجی سربراہان کی جانب سے حالیہ صورتحال پر دیے گئے تبصروں پر وہ خود قوم کو جواب دیں، کیونکہ ان تبصروں سے سنگین خدشات نے جنم لیا ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی 1971 میں دکھائی گئی قیادت اور حوصلے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایسے ہی واضح اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے
نریندر مودی کی طرف سے اب تک کوئی عندیہ نہیں دیا گیا کہ وہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن، مسجدوں پر حملے کے شرم ناک آپریشن سیندور اور اس کے بعد پاکستان کے تین ائیر بیسز پر میزائل برسا کر خود انڈیا کو بربادی کے دہانے پر لے جانے کی حرکتوں پر اپنی پارلیمنٹ کا سامنا کب کریں گے۔
انڈیا میں یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اب پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کر لینے کے بعد نریندر مودی پر ہر طرف سے دباؤ بڑھے گا۔ ہندوتوا کے پجاری اپنی ستتر سالہ خواہش پوری نہ ہونے پر تلملا رہے ہین اور مسلمان، سکھ، سیکولر اپوزیشن پارٹیاں پاکستان ےک ساتھ بے وجہ ٹکرا کر انڈیا کے اندر اقلیتوں کی سپیس مزید کم کر دینے پر سخت غصہ میں ہین اور جنوبی انڈیا کے تمام سیاستدان اور عوام اس بات پر سخت تشویش مین ہین کہ نریندر مودی نے تو انڈیا کو ایٹمی جنگ اور پاکستان کے ہاتھوں یقینی بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ جوبی انڈیا کو لوگ سوال کر رہے ہیں کہ ہندوتوا کی بالادستی کی اس احمقانہ جنگ سے جنوبی انڈیا کے کروڑوں عوام کو کیا ملے گا اور اس جنگ کی بھاری قیمت وہ کیوں ادا کریں۔