ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امن کی آشا کی انگڑائی؛ مودی پر اعتبار کون کرے

 امن کی آشا کی انگڑائی؛ مودی پر اعتبار کون کرے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اچانک معاصر نیوز چینل کے اینکر کے بدن میں "امن کی آشا" انگڑائی لینے لگی۔ اینکر نے پوچھا کہ کیا گزرا وقت واپس نہیں آ سکتا. کیاہم مودی کو یہ سمجھا نہیں سکتے کہ پاکستان کے ساتھ دشمنی ختم کر دینا بھارت کے لئے بہتر ہے۔ معاصر نیوز چینل کے سینئیر اینکر اور صحافی حامد میر  نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیا کہ مودی منافق ہے، میں اس پر اعتبار نہیں کرتا۔

حامد میر نے بتایا کہ نواز شریف کی نواسی کی شادی میں نریندر مودی کی اچانک آمد کوئی سرپرائز وزٹ نہیں تھا، یہ اجیت دوول کے ساتھ پاکستان کے ایک اہم شخص کی ملاقاتوں میں طے شدہ وزٹ تھا، سب کچھ طے شدہ تھا۔

حامد میر نے کہا مودی کا ٹریک ریکارڈ ہے، مودی اکھنڈ بھارت چاہتے ہیں، اعزاز چوہدری نے بتایا کہ وہ ایسا اکھنڈ بھارت چاہتے ہیں جس میں صرف ہندو ہوں، یہ آر ایس ایس کی پرانی پالیسی ہے، مسلمان کو دوبارہ ہندو بنانا ان کی اعلان کی ہوئی پالیسی ہے۔

 2019 میں بھی میرا  یہ پکا خیال تھا کہ آپ جتنی چاہے مودی کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی کر لیں یہ کبھی بھی آپ کے  ساتھ مخلص نہیں ہو گا۔

انٹرنیشنل فورسز کا انوالو ہونا انڈیا کی بڑی شکست ہے۔

انڈیا بڑے تکبر کے ساتھ کہتا تھا کہ ہم کسی تیسرے ملک کی مداخلت نہیں چاہتے۔

ہم تو چاہتے ہیں کہ سیز فائر کے نتیجے میں  بامقصد مذاکرات شروع ہوں لیکن لیکن لیکن مودی ایک منافق آدمی ہے۔۔۔۔

Caption مودی کی منافقت کا ایک انداز؛  مودی کبھی بھی پاکستان اور کسی پاکستانی وطن پرست کا دوست نہیں تھے، ان کا پاکستان آ کر نواز شریف کی نواسی کی شادی میں جانا، ریاستی سطح پر طے ہوا ایک وزٹ تھا جس کا مقصد  انتہائی وقتی نوعیت کی نارملائزیشن تھا۔  مودی کی ضرورت ختم ہوئی تو پاکستان کے متعلق آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔